ننکانہ صاحب (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز): بچوں میں غذائی کمی دور کرنے کیلئے ڈی سی ننکانہ کا بڑا ایکشن، اساتذہ اور والدین کو متحرک کرنے کا حکم

ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ کی زیرِ صدارت بچوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور انہیں جسمانی و ذہنی طور پر توانا بنانے کے حوالے سے ایک اہم ترین اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سمیت محکمہ صحت، تعلیم، زراعت، لائیو اسٹاک اور فوڈ اتھارٹی کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بچوں کی بہتر نشوونما ریاست اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزرز کو باقاعدہ منتھلی پلان دیا جائے اور وہ ہفتے میں کم از کم چار اسکولوں کا لازمی دورہ کر کے بچوں کی صحت کا معائنہ کریں۔ ڈپٹی کمشنر نے اساتذہ کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی خصوصی ٹریننگ کروائی جائے گی تاکہ وہ اپنی کلاس کے ہر بچے پر نظر رکھیں اور اگر کوئی بچہ غذائی کمی کا شکار نظر آئے تو فوری طور پر والدین کو بلا کر آگاہی اور کونسلنگ فراہم کریں۔

محمد تسلیم اختر راؤ نے زور دیا کہ ضلعی اداروں کی ذاتی دلچسپی اور مربوط کوششوں سے ہر ماہ ایک سے دو ہزار بچوں میں غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ صحت کو ‘بریسٹ فیڈنگ’ اور متوازن غذا کی اہمیت کے بارے میں بھرپور آگاہی مہم چلانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک ہفتے کے اندر ضلع کی تینوں تحصیلوں میں جامع سروے کروا کر بچوں کی اسکریننگ کی جائے اور حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ متاثرہ بچوں کی نشاندہی ہو سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے حاملہ خواتین کو اپنی خوراک پر خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ بچوں کی غذائیت کے معاملے پر اب ہر ماہ چار فالو اپ اجلاس ہوں گے اور تمام محکموں کو پوری تیاری کے ساتھ رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے یونین کونسل کی سطح تک کمیٹیاں قائم کرنے اور شہری علاقوں کو مختلف زونز میں تقسیم کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ بچوں کی زندگیوں سے جڑے اس حساس معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کام کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے