اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی آئینی عدالت نے کم عمری کی شادی اور مذہب کی تبدیلی سے متعلق اہم کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں، جبکہ کم عمری کی شادی پر قانون کے تحت سزا تو دی جا سکتی ہے تاہم نکاح کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کم عمری کی شادی قابلِ سزا عمل ہے، لیکن قانون میں نکاح کو ختم کرنے کا کوئی واضح جواز موجود نہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ زیر سماعت کیس میں لڑکی نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا تھا، جس کا باقاعدہ ڈیکلریشن بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔
فیصلے کے مطابق حبسِ بے جا کی درخواست کے دائرہ کار میں لڑکی کی عمر یا دارالافتاء کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کی مکمل جانچ نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات میں محدود دائرہ اختیار کے تحت ہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔
آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ آئینی تشریح کا حتمی اختیار وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اس کے فیصلوں کی پابند ہیں، تاہم آئینی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ اصولوں پر عمل درآمد کی پابند نہیں اگر وہ آئین یا قانون سے متصادم ہوں۔
عدالت نے کیس کے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے نشاندہی کی کہ لڑکی کے والد کے بیانات میں عمر کے حوالے سے تضاد پایا گیا، جہاں ایف آئی آر میں عمر 13 سے 14 سال جبکہ دلائل میں 12 سال 9 ماہ بیان کی گئی۔ عدالت کے مطابق پیش کردہ دستاویزات بھی مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں تھیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے نکاح کیا، جسے مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے درخواست پر فیصلہ سنایا۔
واضح رہے کہ یہ کیس لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی سے متعلق تھا، جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد شہریار نامی نوجوان سے شادی کی تھی۔