لیبیا (کیو این این ورلڈ) لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جس کی تصدیق قذافی خاندان کے قریبی ذرائع اور ان کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے کی ہے۔ عرب میڈیا اور مقامی رپورٹس کے مطابق وہ مغربی لیبیا کے شہر زنتان میں اپنے گھر کے قریب قتل ہوئے، جہاں چار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی اور بعد میں فرار ہو گئے۔
لیبی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے حملے سے قبل سیکیورٹی کیمروں کو غیر فعال کر دیا تھا، جبکہ حکام واقعے کی تفتیش شروع کر چکے ہیں۔ ابھی تک قاتلوں یا حملے کے محرکات کی واضح شناخت سامنے نہیں آئی ہے۔
سیف الاسلام قذافی 1972 میں طرابلس میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کے دور حکومت میں اہم سیاسی کردار ادا کرتے تھے۔ 2011 میں قوم پرست بغاوت کے دوران ان کے والد کا قتل ہو گیا تھا، جس کے بعد انہیں زنتان میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں 2017 میں رہائی ملی۔ انہوں نے 2021 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، لیکن انتخابات سیاسی کشیدگی کے باعث ملتوی ہو گئے تھے۔
سیف الاسلام کو اپنے والد کے بعد گنیے ہوئے جانشین کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور وہ کئی حلقوں میں اب بھی ایک مضبوط سیاسی شخصیت تصور کیے جاتے تھے۔ ان کی موت لیبیا کے طویل سیاسی بحران میں ایک نیا اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے، جس سے ملک میں موجود سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔