نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) ایران کی تزویراتی اہمیت کی حامل چابہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کرنے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کے اندر شدید سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس فیصلے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس کا عنوان ‘نریندر نے پھر کیا ٹرمپ کے آگے سرینڈر’ رکھا گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جس معاہدے کو مودی اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے تھے، اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ اور پابندیوں کے خوف سے اس کا کنٹرول چھوڑنے پر وہ مکمل خاموش ہیں۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی نے امریکی دباؤ کے سامنے جھک کر ملک کے وسیع تر مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔

Narendra Modi Has Surrendered To Trump Again

واضح رہے کہ بھارت نے مئی 2024 میں ایران کی چابہار بندرگاہ کا انتظام 10 سال کے لیے سنبھالنے کا معاہدہ کیا تھا، تاہم امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت نے اس منصوبے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ بھارتی حکومت نے پابندیوں کے مکمل اطلاق سے قبل ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی ہے، جس کے بعد اب ایران بھارت کی شمولیت کے بغیر اس سرمائے کو بندرگاہ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔ ماہرین اس پیش رفت کو بھارت کی علاقائی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں کیونکہ چابہار بندرگاہ بھارت کے لیے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ تصور کی جاتی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے