ڈیرہ غازی خان (خصوصی رپورٹ:سید ریاض جاذب)بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کو بگٹی قبائل نے متفقہ طور پر اپنا آٹھواں چیف آف بگٹیز منتخب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق چیف وڈیرہ محمد شریف بگٹی کے انتقال کے بعد کیا گیا، جو میر سرفراز بگٹی کے قریبی رشتہ دار اور چچا زاد بھائی تھے۔ قبائلی روایات کے مطابق چیف آف بگٹیز کا منصب بگٹی قبیلے میں نواب بگٹی کے بعد دوسرا سب سے معتبر اور باوقار عہدہ تصور کیا جاتا ہے، جو اتحاد، قیادت اور قبائلی نظم کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

یہ اہم قبائلی فیصلہ وزیراعلیٰ کے آبائی علاقے بیکڑ میں منعقد ہونے والے ایک بڑے جرگے میں کیا گیا، جس میں بگٹی قبیلے کی تمام ذیلی شاخوں شمبانی، کلپر، موندرانی، پیروزانی، نوتھانی، ڈومب اور دیگر کے سرداروں، عمائدین اور معتبر شخصیات نے شرکت کی۔ جرگے کے شرکاء نے مکمل اتفاقِ رائے سے میر سرفراز بگٹی کو چیف آف بگٹیز منتخب کرنے کی منظوری دی۔

انتخاب کے بعد بیکڑ میں ایک پروقار دستار بندی کی تقریب منعقد ہوئی، جو قبائلی روایات کے عین مطابق تھی۔ اس موقع پر نوابزادہ زامران سلیم بگٹی نے میر سرفراز بگٹی کو پگڑی پہنائی اور انہیں باضابطہ طور پر بگٹی قبیلے کا آٹھواں چیف آف بگٹیز قرار دیا۔ تقریب میں بگٹی قبائل کے عمائدین، معتبرین، سیاسی و سماجی شخصیات اور نواب بگٹی خاندان کے معزز اراکین نے شرکت کی اور نئے چیف کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ زامران سلیم بگٹی نے کہا کہ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بگٹی قبیلہ اتحاد، امن اور ترقی کے سفر کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں قبائلی قیادت کا کردار صرف روایات تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل، تعلیم اور ترقی سے بھی جڑا ہوا ہے۔

نومنتخب چیف آف بگٹیز اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خطاب میں قبائلی عمائدین اور قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو دیانت داری، انصاف اور خلوص کے ساتھ نبھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بگٹی قوم کی خدمت، قبائلی اتحاد اور اتفاقِ رائے ان کی اولین ترجیحات ہوں گی، اور قبائلی اقدار کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مضبوط کیا جائے گا۔

میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں امن و امان کے حوالے سے بھی دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بندوق اٹھانے والے گمراہ افراد ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں واپس آ جائیں، ریاست کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندوق کے زور پر کوئی نظریہ مسلط نہیں کیا جا سکتا، ریاست اپنی رِٹ قائم رکھنا جانتی ہے، اور بگٹی قوم کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

قبائلی عمائدین نے نئے چیف پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بگٹی قبائل نہ صرف متحد رہیں گے بلکہ امن، ترقی اور استحکام کی نئی مثالیں قائم کریں گے۔ ماہرین کے مطابق میر سرفراز بگٹی کا چیف آف بگٹیز منتخب ہونا بلوچستان کی قبائلی اور سیاسی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو صوبائی حکومت اور قبائلی ڈھانچے کے درمیان ہم آہنگی اور اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے