کراچی (کیو این این ورلڈ) سندھ حکومت نے تعلیمی نظام میں بڑی اصلاحات لاتے ہوئے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں قدیم ‘نمبر سسٹم’ کو مستقل طور پر ختم کرنے اور اس کی جگہ بین الاقوامی معیار کا نیا ‘گریڈنگ سسٹم’ نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو کے مطابق یہ اہم فیصلہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) کے وفاقی سطح پر کیے گئے پالیسی فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت لائی جا سکے۔ نئی پالیسی کے تحت میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد مقرر کر دی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ اب ناکام تصور ہوں گے۔

نئے نظام کا اطلاق صوبے بھر میں مرحلہ وار کیا جائے گا، جس کا آغاز رواں سال 2026 میں نویں اور گیارہویں جماعت کے پہلے سالانہ امتحانات سے ہوگا، جبکہ 2027 میں اس کا دائرہ کار دہم اور بارہویں جماعت کے امتحانات تک پھیلا دیا جائے گا۔ نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت طلبہ کی کارکردگی کو 10 مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں 96 سے 100 فیصد نمبر لینے والوں کو ‘اے ڈبل پلس’ (A++)، 91 سے 95 فیصد پر ‘اے پلس’ (A+)، 86 سے 90 فیصد پر ‘اے’ (A)، 81 سے 85 فیصد پر ‘بی ڈبل پلس’ (B++)، 76 سے 80 فیصد پر ‘بی پلس’ (B+) اور 71 سے 75 فیصد پر ‘بی’ (B) گریڈ دیا جائے گا۔ اسی طرح 61 سے 70 فیصد پر ‘سی پلس’ (C+)، 51 سے 60 فیصد پر ‘سی’ (C) اور 40 سے 50 فیصد حاصل کرنے والوں کو ‘ڈی’ (D) یعنی ‘امرجنگ’ گریڈ ملے گا۔

اسماعیل راہو نے واضح کیا کہ جو طلبہ کسی بھی پرچے میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے، انہیں ‘یو’ (U) یعنی ‘ان گریڈڈ’ یا ناکام قرار دیا جائے گا، تاہم ایسے طلبہ کو اسی پرچے میں دوبارہ امتحان دے کر اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے (GPA) سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ پاکستانی طلبہ کی اسناد کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے میں آسانی ہو۔ سندھ حکومت نے اس نئی تعلیمی پالیسی کی باقاعدہ منظوری دے کر تمام متعلقہ بورڈز کو اس پر عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے