ڈھاکہ (ویب ڈیسک)جنوبی ایشیا میں بھارت کی متنازع علاقائی پالیسیوں اور ہندوتوا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف علاقائی سطح پر ردعمل میں غیر معمولی تیزی آتی جا رہی ہے، جس کا حالیہ مرکز بنگلا دیش بنا ہوا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران بنگلا دیش کے مختلف شہروں میں بھارت مخالف مظاہروں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں اور خطے کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مبینہ مداخلت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ان احتجاجی مظاہروں میں بنگلا دیشی عوام کی جانب سے مودی حکومت کے توسیعی عزائم اور ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بنگلا دیشی ذرائع کے مطابق سیاسی کارکن عثمان ہادی کی شہادت کے واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اس صورتحال میں تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض بنگلا دیشی رہنماؤں کو مبینہ طور پر بھارت کی جانب سے براہ راست دھمکیاں ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے ہندوتوا نظریے کو پورے جنوبی ایشیا پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ خود مختار ریاستوں کی آزادی کے منافی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے، جہاں بھارتی فوج کے بعض ریٹائرڈ افسران کی جانب سے بنگلا دیش کی نئی نوجوان قیادت کو دی گئی مبینہ دھمکیوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بنگلا دیشی عوام اور تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ بھارتی دفاعی حکام کے ایسے بیانات خطے میں بدامنی پھیلانے اور ہمسایہ ممالک کو خوفزدہ کرنے کی ایک منظم کوشش ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بھارت نے اپنی جارحانہ پالیسیوں اور مداخلت پسندانہ طرزِ عمل پر نظرثانی نہ کی تو جنوبی ایشیا میں بھارت کے خلاف نفرت اور عوامی مزاحمت میں مزید شدت پیدا ہو سکتی ہے، جو کہ علاقائی تعاون کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے