کراچی (کیو این این ورلڈ) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو فوری طور پر وفاق کا حصہ بنایا جائے اور 18ویں ترمیم کا خاتمہ عمل میں لایا جائے۔
بہادرا آباد آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "18ویں ترمیم سے کراچی کے رہائشیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ یہ شہر کتنا خون دے، کتنے حادثات برداشت کرے؟ ایک دن میں 100 لوگ ہلاک ہوتے تھے، بچے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں۔”
مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "مشرقی پاکستان کا نعرہ، بینظیر بھٹو کی شہادت پر جلاؤ گھیراؤ، مرتضیٰ بھٹو کا قتل – یہ سب الزامات لگائے جاتے ہیں۔ بلدیہ فیکٹری کا جواب دو، بھٹا خوری کا جواب دو۔ 18 سال سے تمہاری حکومت ہے، پھر بھی سانحات جاری ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم نے ریاست کی مدد سے را کے اسلحے جمع کرکے دیے مگر 30 سال تک کنٹرول نہ ہو سکا۔ "یہ شہر کس کے حوالے کر دیا گیا؟ یہ کھلی جمہوری دہشت گردی ہے۔ وزیراعظم چاہیں بھی تو پیپلز پارٹی کی ناراضی کے ڈر سے کچھ نہ کر سکتے۔”
وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ آرٹیکل 148 و 149 کے تحت کراچی کو فیڈرل ٹیریٹری بنایا جائے، فنانشل کیپیٹل قرار دیا جائے اور براہ راست وفاق کے ماتحت ہو۔ "18ویں ترمیم ملک کا ناسور بن گئی ہے، اس کا ڈرامہ ختم ہونا چاہیے۔ دنیا چاند پر جا رہی ہے، کراچی میں بچے گٹر میں مر رہے ہیں۔”
مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا کہ "اب بہت ہو چکا! ہمیں بتائیں کہ اس شہر میں کتنے لوگ مزید مریں گے۔ کراچی اب ایسی ایڈمنسٹریشن برداشت نہ کر سکتا!”