کاراکس/واشنگٹن: (کیو این این ورلڈ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی فوج نے وینزویلا کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے دارالحکومت کاراکس سمیت ملک کے مختلف حصوں پر شدید فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ امریکی میڈیا اور مقامی ذرائع کے مطابق، کاراکس میں کم از کم 7 بڑے دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ شہر کی فضاؤں میں امریکی جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں اس جارحانہ کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کی قیادت پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر اس اہم صورتحال پر آج رات نو بجے (پاکستانی وقت کے مطابق) ایک پریس کانفرنس بھی کریں گے جس میں اس آپریشن کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے کاراکس، میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا ریاستوں میں امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔ وینزویلا کی قیادت نے امریکی فوجی جارحیت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ان کے قومی وسائل حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا، جبکہ صدر مادورو نے حملوں کے فوراً بعد ملک بھر میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی تھی۔ روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد صدر صدارتی محل چھوڑ کر نامعلوم مقام پر منتقل ہو گئے ہیں، جبکہ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق وینزویلا کے مختلف جزائر پر امریکی میرینز کا زمینی آپریشن بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس نازک صورتحال پر کولمبیا کے صدر نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کاراکس پر ہونے والے میزائل حملوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔