کراچی/بنوں (کیو این این ورلڈ)ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے کراچی میں بھتہ مافیا اور بنوں میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیے، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 4 ہلاک ہو گئے۔
کراچی میں گارڈن کے علاقے میں پاکستان رینجرز (سندھ) اور ایس آئی یو پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بھتہ خوروں کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں 2 ملزمان ہلاک ہو گئے۔ ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق ہلاک ملزمان کی شناخت محمد حسن عرف بیلچہ اور تنویر علی عرف تیتر کے نام سے ہوئی ہے، جو بھتہ مافیا کے سرغنہ جمیل چھانگا اور زاہد لاڈلہ گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔
ترجمان کے مطابق ہلاک ملزمان کاروباری مراکز، دکانداروں اور بلڈرز سے بھتہ وصولی میں ملوث تھے اور بھتہ نہ دینے پر فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلانے کی متعدد وارداتوں میں بھی شامل رہے۔ یہ ملزمان سولجر بازار اور جمشید ٹاؤن کے علاقوں میں سرگرم تھے۔ سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزمان سٹریٹ کرائم کی 300 سے زائد وارداتوں میں ملوث تھے اور عادی جرائم پیشہ ہونے کے باعث متعدد بار گرفتار ہو کر جیل بھی جا چکے تھے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈومیل چشمی روڈ پر دہشتگردوں نے پولیس موبائل پر حملہ کر دیا۔ ڈی آئی جی کے مطابق پولیس کی بروقت جوابی کارروائی میں 2 دہشتگرد ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے دیگر ساتھی لاشیں چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
اسی ضلع کے علاقے میریان میں نامعلوم افراد نے ایک رابطہ پل کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔ پولیس کے مطابق بارودی مواد پل کے نیچے نصب کیا گیا تھا، جس کے باعث پل کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگردی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔