ٹھٹھہ (کیو این این ورلڈ/بلاول سموں) سندھ ایجوکیشن ریفارمز پروگرام کے تحت سکولوں کی تعمیر و مرمت کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ٹھیکیداروں نے گورنمنٹ پرائمری سکول کھڈائی محلہ سمیت ضلع کے پانچ سکولوں کی پرانی عمارتیں منہدم کر کے ان کا ملبہ، قیمتی لوہا اور پتھر فروخت کر دیا اور نئی تعمیرات مکمل کیے بغیر ہی فرار ہو گئے۔ عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے صدر بلاول سموں کی شکایت پر ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ سندھ محمد ہارون نے ٹیم کے ہمراہ موقع کا دورہ کیا تو ہوش ربا حقائق سامنے آئے۔ ہیڈ ماسٹر آفتاب محمود کھڈائی نے بتایا کہ سینکڑوں طلبہ کا سکول اب صرف ایک مخدوش کمرے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جس کے باعث والدین خوف زدہ ہیں اور بچوں کی تعداد گھٹ کر چند درجن رہ گئی ہے۔
اس سنگین تعلیمی سیکنڈل پر ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ سندھ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موقع پر موجود ایجوکیشن ورکس اور تعلیم کے افسران کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکیداروں کی جانب سے سرکاری املاک کی فروخت اور تعمیراتی کام ادھورا چھوڑنا ایک مجرمانہ فعل ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس غفلت میں ملوث ٹھیکیداروں اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ بچوں کے تعلیمی مستقبل کو مزید بربادی سے بچایا جا سکے۔ دورے کے دوران اسسٹنٹ رجسٹرار محمد حنیف پنہور، ایکسئین فیض علی رند اور دیگر حکام بھی موجود تھے جنہیں سکول کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔