کراچی (کیو این این ورلڈ) شہرِ قائد کے علاقے مائی کولاچی میں خاتون اور اس کے تین معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کرنے کی لرزہ خیز واردات میں ملوث مرکزی ملزم مسرور حسین کو کیماڑی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے جس نے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ کے مطابق گرفتار ملزم نے ابتدائی پوچھ گچھ میں مقتولہ انیلہ اور اس کے تین بچوں کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولہ تعویذ گنڈے کرتی تھی جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور اسی معاملے سے تنگ آ کر اس نے چاروں افراد کو قتل کر کے ان کی لاشیں مین ہول میں پھینک دیں، پولیس اس وقت واقعے کے تمام پہلوؤں پر مزید پیشہ ورانہ تفتیش کر رہی ہے تاکہ قتل کے اصل محرکات مکمل طور پر واضح ہو سکیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں
کراچی: مائی کلاچی پھاٹک کے قریب مین ہول سے چار انسانی لاشیں برآمد، تشدد کے لرزہ خیز انکشافات، وزیر اعلیٰ کا نوٹس

دوسری جانب مقتولہ انیلہ کے بھائی نے لاشوں کی شناخت کے لیے پولیس سے رابطہ کیا اور بتایا کہ اس کی بہن کا موبائل فون 30 دسمبر سے بند تھا اور جب وہ گھر گیا تو وہاں تالا لگا ہوا تھا، مقتولہ کی ڈھائی سال قبل طلاق ہو چکی تھی اور وہ اپنے بچوں کا خرچہ خاندانی کرائے کی پراپرٹی سے حاصل ہونے والی رقم سے پورا کر رہی تھی۔ اس لرزہ خیز واقعے پر فوری ایکشن لینے پر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کیماڑی پولیس اور ایس ایس پی امجد شیخ کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی ہے، صوبائی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سنگین جرائم میں ملوث سفاک عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ معاشرے کو ایسے جرائم سے پاک کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے