جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار
تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
پاکستان کی سب سے بڑی سیلولر کمپنی جاز (موبی لنک) اس وقت ملک بھر میں صارفین کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق نیٹ ورک سروس کے معیار میں مسلسل گراوٹ، پیکیجز کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اور غیر مجاز کٹوتیوں نے صارفین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک صارف نے حال ہی میں شکایت کی کہ جاز کا ویکلی فریڈم پیکیج، جو ابتدا میں 350 روپے میں متعارف کرایا گیا تھا، اب بڑھ کر 700 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس کے برعکس سروس کا معیار دن بدن مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک فرد کی شکایت نہیں بلکہ ملک بھر میں لاکھوں صارفین اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس آرٹیکل میں جاز نیٹ ورک کی مجموعی صورتحال، صارفین کی شکایات، ریگولیٹری اداروں کے کردار اور ممکنہ حل کا جائزہ مختلف مستند ذرائع کی بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی رپورٹس کے مطابق جاز 2025 میں بھی سب سے زیادہ شکایات موصول کرنے والی ٹیلی کام کمپنی رہی ہے۔ ستمبر 2025 میں ملک بھر سے ٹیلی کام سیکٹر کے حوالے سے تقریباً 5000 شکایات ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے 1522 شکایات صرف جاز کے خلاف تھیں، جو مجموعی شکایات کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہیں۔ اکتوبر 2025 میں جاز کے خلاف شکایات کی تعداد بڑھ کر 1619 ہو گئی، جبکہ جنوری 2025 کی رپورٹ میں جاز کے خلاف 5070 شکایات سامنے آئیں، جو تمام آپریٹرز میں سب سے زیادہ تھیں۔
ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شکایات میں نیٹ ورک ڈاؤن ہونا، سگنلز کی کمی، انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتار اور کال ڈراپس جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ اسلام آباد کے ایک صارف کے مطابق کئی علاقوں میں جاز کے سگنلز مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر نیٹ ورکس نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاز کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین اسے بدترین سروس فراہم کرنے والی کمپنی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہ کالز درست طریقے سے ملتی ہیں، نہ انٹرنیٹ قابلِ استعمال رہتا ہے اور نہ ہی کسٹمر کیئر تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔
ٹرسٹ پائلٹ جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی جاز کی ریٹنگ محض ایک اسٹار تک محدود ہے، جہاں صارفین نے غیر مجاز سبسکرپشنز اور بیلنس چوری کی متعدد شکایات درج کر رکھی ہیں۔ ریڈٹ پر ایک صارف نے انکشاف کیا کہ اس کے نمبر پر بغیر اجازت ایک سروس ایکٹیو کی گئی اور بیلنس کاٹ لیا گیا۔ یہ شکایات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں سے بھی نیٹ ورک کی خراب صورتحال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اوپن سگنل کی فروری 2025 کی رپورٹ کے مطابق جاز نے نومبر 2024 میں اپنا 3G نیٹ ورک بند کیا، جو “4G فار آل” منصوبے کا حصہ تھا، تاہم اس فیصلے کے بعد سروس میں بہتری کے بجائے صارفین کے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سروس کے معیار میں گراوٹ کے ساتھ ساتھ جاز کے پیکیجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے صارفین کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ دسمبر 2025 تک ویکلی فریڈم پیکیج کی قیمت ٹیکس سمیت 565 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں 50 جی بی ڈیٹا، 1000 جاز منٹس، 300 دیگر نیٹ ورک منٹس اور 1000 ایس ایم ایس شامل ہیں۔ بعض ذرائع میں اس قیمت کو 547 روپے بھی بتایا گیا ہے، تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ یہی پیکیج چند برس قبل کہیں کم قیمت پر زیادہ ڈیٹا کے ساتھ دستیاب تھا۔ ایک صارف کے مطابق جاز کا ہفتہ وار پیکیج جو ابتدا میں 200 روپے میں 12 جی بی دیتا فراہم کرتا تھا، اب 350 روپے میں صرف 6 جی بی تک محدود ہو چکا ہے۔
آڈٹ جنرل آف پاکستان کی 2024-25 کی رپورٹ میں ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق جاز نے مالی سال 2023-24 کے دوران صارفین سے پی ٹی اے کی منظور شدہ قیمتوں سے زائد 6.58 ارب روپے وصول کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافی وصولی 9 مختلف پیکیجز میں کی گئی، جن میں ہفتہ وار اور ماہانہ بنڈلز شامل تھے۔ مثال کے طور پر ایک پیکیج جس کی منظور شدہ قیمت 955 روپے تھی، اسے 1043 روپے میں فروخت کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس عمل کو کھلی لوٹ مار قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
غیر مجاز کٹوتیوں کے حوالے سے بھی صارفین کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس سے بیلنس خودبخود کٹ جاتا ہے، جبکہ انہیں کسی قسم کی سروس ایکٹیویشن کا علم تک نہیں ہوتا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے اس نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے بعد بعض صارفین نے جاز کے بائیکاٹ کی بھی اپیلیں شروع کر دی ہیں۔
اس تمام صورتحال میں پی ٹی اے کا کردار بھی تنقید کی زد میں ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ادارہ کمپنیوں کی مبینہ لوٹ مار کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ اگرچہ پی ٹی اے نے 2025 میں سروس کے معیار پر جاز پر 30 ملین روپے جرمانہ عائد کیا اور کوالٹی آف سروس سروے کے ذریعے بہتری کی ہدایات جاری کیں، تاہم قیمتوں میں اضافے کو آپریٹرز کی بڑھتی لاگت کے تناظر میں جائز قرار دیا گیا۔ سینیٹ پینل نے 2024 میں ٹیلی کام پیکیجز میں 19 فیصد اضافے پر سوالات ضرور اٹھائے، مگر اس کے باوجود کوئی ٹھوس اور فیصلہ کن اقدام سامنے نہیں آ سکا۔ جاز نے بھی اوورچارجنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام قیمتوں میں اضافہ پی ٹی اے کی منظوری سے کیا گیا۔
مجموعی طور پر جاز نیٹ ورک کی گرتی ہوئی سروس، بڑھتے ہوئے نرخ اور غیر مجاز کٹوتیوں نے صارفین کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ ریگولیٹری اداروں کی کمزور نگرانی عوامی بے چینی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اگر اداروں میں مؤثر چیک اینڈ بیلنس اور جواب طلبی کا نظام موجود ہوتا تو شاید صارفین کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حکومت اور متعلقہ ریگولیٹرز کو فوری اور عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کو قواعد و ضوابط کا پابند بنانا ہوگا، قیمتوں پر مؤثر کنٹرول اور سروس کے معیار میں بہتری کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے اور صارفین کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔