لندن (ویب ڈیسک)سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون مرزا شہزاد اکبر پر حملہ، ناک اور جبڑا فریکچر

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون اور تحریک انصاف کی حکومت میں احتساب سے متعلق مشیر رہنے والے مرزا شہزاد اکبر پر برطانیہ میں حملہ کیا گیا ہے۔ واقعہ لندن کے قریب کیمبرج میں پیش آیا، جہاں وہ اپریل 2022 سے خودساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حملے کے نتیجے میں مرزا شہزاد اکبر زخمی ہو گئے جبکہ ان کی ناک اور جبڑا فریکچر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مرزا شہزاد اکبر نے ڈان سے رابطے پر ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے بعد وہ اسپتال گئے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ پولیس کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق حملے میں انہیں متعدد چوٹیں آئیں اور فریکچر کی تشخیص ہوئی ہے۔

تحریک انصاف کے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بدھ کی شب 9:50 بجے (پاکستانی وقت) جاری بیان کے مطابق مرزا شہزاد اکبر پر صبح کے وقت کیمبرج میں ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا۔ پارٹی کے مطابق حملہ آور نے ان کے چہرے پر بار بار مکے مارے، جس کے نتیجے میں ان کی ناک اور جبڑا ٹوٹ گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مقامی پولیس نے واقعے کی تفصیلات جمع کر لی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ مرزا شہزاد اکبر پر برطانیہ میں حملہ ہوا ہو۔ اس سے قبل نومبر 2023 میں وہ ہارٹفورڈشائر میں اپنے گھر پر ایک تیزاب حملے کا نشانہ بن چکے ہیں، جہاں ایک نقاب پوش شخص نے ان پر تیزابی مادہ پھینکا تھا۔ اس واقعے کے بعد مرزا شہزاد اکبر نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہ تو مرعوب ہوں گے اور نہ ہی دباؤ کے آگے جھکیں گے۔

مرزا شہزاد اکبر نے نومبر 2023 کے تیزاب حملے کو القادر ٹرسٹ کیس سے جوڑا تھا، جو تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف زیر سماعت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں سابق وزیر اعظم کے خلاف گواہی دینے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈان سے گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حالیہ مہینوں میں انہیں ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں انہیں اپنے رویے درست کرنے کی وارننگ دی گئی۔

اپریل 2024 میں مرزا شہزاد اکبر نے تیزاب حملے کے معاملے پر پاکستان کی حکومت کے خلاف برطانیہ کی عدالت میں قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں پاکستان ہائی کمیشن اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی قانونی نوٹس بھجوائے تھے۔ تاہم مئی 2024 میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے 2023 کے تیزاب حملے میں ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایکس پر مبینہ متنازع بیانات کے ایک مقدمے میں مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری ملزم قرار دے رکھا ہے۔ اس تناظر میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کے دوران مرزا شہزاد اکبر کی حوالگی سے متعلق دستاویزات ان کے حوالے کی تھیں۔ اگرچہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باضابطہ حوالگی معاہدہ موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایک انتظام کے تحت جرائم میں ملوث یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستانی شہریوں کی واپسی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے