پٹرول، ڈیزل اور گیس کے نرخ کم کیے جائیں، جماعت اسلامی کا حکومت سے مطالبہ

لنڈی کوتل: (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) جماعت اسلامی لنڈی کوتل کے زیر اہتمام بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی اور عوامی مسائل کے حل کے مطالبے کے لیے باچا خان چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں جماعت اسلامی کے کارکنوں، عہدیداروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی لنڈی کوتل کے امیر مراد حسین آفریدی اور نائب امیر عبدالروف شینواری نے کہا کہ موجودہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ متوسط اور غریب طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے عوام کو اس کا خاطر خواہ فائدہ منتقل نہیں کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی آ سکے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ گیس کے نرخ بھی کم کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم ہو سکے۔ مقررین نے کہا کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے شہریوں کو فوری سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں مزید تاخیر ناقابل قبول ہے۔

مراد حسین آفریدی اور عبدالروف شینواری نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک بھر میں احتجاجی مہم جاری ہے، جس کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت کو مؤثر اقدامات پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر فورم پر عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی مشکلات کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی اور عوامی حقوق کے حصول تک احتجاجی تحریک کو مزید منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

مظاہرے کے اختتام پر ملک کی سلامتی، ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی جبکہ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے