چل جل کھوتے آ، توں چل فٹا فٹ!
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب صرف قیمتیں نہیں رہیں، بلکہ ایک ایسا آسمانی عذاب بن چکی ہیں جو پہلے ہر پندرہ دن بعد غریب کے چولہے پر بجلی بن کر گرتا تھا، اب ہر ہفتے نئے انداز سے گرا کرے گا کیونکہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے۔ پیٹرول 321 روپے اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر کی سطح کو چھو رہا ہے، تو عوام کے چہروں پر کرب اور آنکھوں میں صرف ایک ہی سوال ہے کہ "اب کیا کریں اور کہاں جائیں؟” ابھی لگنے والا 55 روپے کے "ٹیکے” کا درد تازہ ہے کہ ہفتہ وار جائزے کی نوید سنا کر زخموں پر نمک کے ساتھ مرچیں ڈالی جارہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا بہانہ ، آئی ایم ایف کا سنگدلانہ دباؤ یا ہماری حکومت کا وہ مخصوص "کم سے کم بوجھ” والا فرسودہ فلسفہ… حقیقت تو یہ ہے کہ سارا بوجھ غریب کی کمزور ہڈیوں پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔

ایسے میں نجانے کیوں 70 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان کی زینت بننے والا مسعود رانا کا وہ لافانی گانا یاد آ رہا ہے جو سرائیکی فلم "ہاتو جٹ” کے لیے فلمایا گیا تھا، مگر صد افسوس کہ وہ فلم تو ریلیز نہ ہو سکی لیکن اس کے بول آج کے حالات پر ایسے فٹ بیٹھے ہیں جیسے یہ گانا آج کے دور کے لیے ہی لکھا گیا تھا۔ گانے کے بول تھے "چل جل کھوتے آ توں چل فٹافٹ، یار ملا دے اج جھٹ پٹ؟” آج پاکستانی عوام کی حالت بھی اسی گدھے جیسی ہے جس پر بوجھ لادنے والا تو بے رحم ہے ہی، مگر گدھے کو بھی منزل کی تلاش میں دوڑنا پڑ رہا ہے۔ اب تو ہر طرف سے ایک ہی صدا سنائی دے رہی ہے: "چل جل کھوتے آ، توں چل فٹا فٹ!”

ایک طرف وفاقی وزیرِ پیٹرولیم صاحب کا وہ روایتی بیان ہے کہ "عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو عوام کو فوری ریلیف دیں گے”، جبکہ دوسری طرف عوام یہ تلخ حقیقت جانتے ہیں کہ جب تیل مہنگا کرنا ہو تو رات کے بارہ بجنے کا انتظار بھی نہیں کیا جاتا، لیکن جب قیمتیں کم کرنے کی باری آئے تو "دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں اور جائزہ لیتے ہیں” جیسے بہانے تراشے جاتے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی منظر ہے جیسے کوئی لاچار کھوتا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک چکا ہو، اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہوں، مگر مالک اپنی سوٹی لہراتے ہوئے کہہ رہا ہو "چل جل کھوتے آ”۔ اب پیٹرول پمپس پر جو طویل قطاریں نظر آتی ہیں، وہ محض ایندھن بھروانے والوں کا رش نہیں بلکہ ان خوفزدہ لوگوں کا ہجوم ہے جو سوچتے ہیں کہ آج ٹینکی فل کروا لو، ورنہ کل یہ پیٹرول سونے کے بھاؤ بکے گا۔

سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو میمز کا ایک طوفان برپا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا کے فنکار اس المیے پر ایسا طنز کر رہے ہیں کہ ہنسی بھی آتی ہے اور اپنی حالت پر رونا بھی۔ ایک وائرل ویڈیو میں رات کے اندھیرے میں پیٹرول پمپس پر میلوں لمبی قطاریں دکھائی جا رہی ہیں اور کیپشن لکھا ہے "پاکستان میں فیول بحران اور پینک بائینگ”۔ ایک اور میم میں ایک صاحب پیٹرول کی قیمت سن کر اپنی کار سڑک پر ہی چھوڑ کر دوڑ لگا رہے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں "بھائی صاحب! اب کار نہیں، صرف قدم چلیں گے”۔ حد تو یہ ہے کہ ایک میم میں آئی ایم ایف کو ایک ظالم مالک کے روپ میں دکھایا گیا ہے جو حکومتِ پاکستان کے ہاتھ میں چھڑی دے کر کہہ رہا ہے کہ "لیوی بڑھاؤ، ہدف پورا کرو اور غریب کا کچومر نکال دو”۔ ان میمز کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ قوم اب اس مقام پر ہے جہاں "چل جل کھوتے آ، توں چل فٹا فٹ” کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

یہ پیٹرول کا اضافہ صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہے گا، یہ مہنگائی کا وہ جن ہے جو اب ٹرانسپورٹ، سبزی، دودھ، چینی اور آٹے کے تھیلوں میں گھس کر ہر گھر کی دہلیز پر دستک دے گا۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ رواں دواں ہے اور عوام کا بلڈ پریشر یہ سوچ کر بڑھ رہا ہے کہ اگر عید تک پیٹرول 400 روپے کا ہو گیا تو سفید پوش طبقہ بچوں کو نئے کپڑے پہنائے گا یا پمپ والے کے ہاتھ جوڑے گا؟ کیا اب ہم صرف گھر بیٹھ کر دعائیں مانگیں یا اس کھوتے کی طرح "فٹافٹ” چلتے رہیں جب تک کہ سانس کی ڈوری ٹوٹ نہ جائے؟ حکومت کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لے اور ان عوام دشمن فیصلوں سے باز آئے، ورنہ "یار ملا دے اج جھٹ پٹ” والا خواب کبھی شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

ستم بالائے ستم یہ کہ جب کسان کے لیے ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کی فصل کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ منڈی میں ٹماٹر اور پیاز بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ حکومت عالمی بحران کا راگ الاپ رہی ہے، لیکن پڑوسی ممالک کی طرف دیکھیں تو وہاں قیمتیں اتنی بے لگام نہیں ہوئیں۔ بس ہمارے ہاں ہی "کھوتے” کو ایڑ لگا کر چلانے کا ایک خاص جنون سوار ہے۔ اس مہنگائی کی سب سے بڑی زد میں وہ دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے ملازمین ہیں جو موٹر سائیکل پر ڈیوٹی پر جاتے ہیں۔ ان کے لیے تو اب پیٹرول بھروانا کسی شاہانہ عیاشی سے کم نہیں۔ ایک طرف بجلی اور گیس کے کمر توڑ بل اور دوسری طرف یہ پیٹرول بم – عوام آخر کس دیوار سے جا کر سر ٹکرائیں؟

معیشت کا پہیہ پہلے ہی جام ہے، افراطِ زر کا گراف آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور کاروبار دم توڑ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی خوشنودی کی خاطر عوام کی قربانی کا یہ سلسلہ اگر یونہی جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب لوگ اپنی گاڑیاں کباڑ خانے میں بیچ کر سائیکلوں پر نظر آئیں گے۔ سوشل میڈیا پر "ایران جنگ” اور "عالمی بحران” کے کیپشنز کے ساتھ لگنے والی ویڈیوز دراصل ایک خاموش احتجاج ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز بند کمروں سے باہر نکل کر زمینی حقائق کو دیکھیں۔

رمضان اور عید کی خوشیاں قریب ہیں، مگر اس بار مہنگائی کی سیاہ چادر ان خوشیوں کو ڈھانپتی نظر آ رہی ہے۔ سفر کرنا، خاندانوں سے ملنا اور خوشیاں بانٹنا اب صرف امیروں کا مقدر بنتا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ ورنہ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ لوگ ہنستے ہنستے رو رہے ہیں اور یہ گانا اب پاکستان کا نیا قومی نغمہ (Anthem) بنتا جا رہا ہے کہ "چل جل کھوتے آ، توں چل فٹا فٹ!”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے