لاہور (کیو این این ورلڈ) نجی یونیورسٹی کی طالبہ فاطمہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے واقعے میں چونکا دینے والے حقائق سامنے آگئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق فاطمہ اپنے آبائی علاقے نارنگ منڈی کے رہائشی احمد نامی نوجوان کو پسند کرتی تھی اور اس سے شادی کی خواہش مند تھی، تاہم اہل خانہ کے رشتے پر رضامند نہ ہونے اور تعلیم جاری رکھنے کے دباؤ کے باعث اس نے ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر عمارت سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔ تفتیش کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ انتہائی اقدام اٹھانے سے قبل فاطمہ نے آخری بار فون پر احمد سے بات کی تھی اور بعد ازاں اس کا نمبر موبائل فون سے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے اہل خانہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے اور واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب جنرل اسپتال لاہور میں زیر علاج طالبہ کی حالت کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بتایا گیا کہ فاطمہ کی حالت تاحال تشویشناک ہے لیکن اس کی دماغی حالت میں کچھ بہتری آئی ہے۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق مریضہ کے پھیپھڑوں کی حالت تسلی بخش ہے تاہم وہ ابھی تک وینٹی لیٹر پر ہے اور اسے مصنوعی سانس فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سانس کی مشین کو روزانہ آزمائشی طور پر کچھ دیر کے لیے ہٹایا جاتا ہے تاکہ مریضہ کی خود سے سانس لینے کی صلاحیت کو جانچا جا سکے، حالت مزید بہتر ہونے پر علاج کے لیے اگلے مرحلے کے اقدامات کیے جائیں گے۔