لاہور (کیو این این ورلڈ) داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت نے ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا، جہاں کھلے مین ہول میں گر کر ماں اور بیٹی لاپتہ ہو گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق علاقہ میں تعمیراتی کام کے باعث کھدائی کی گئی تھی لیکن مین ہول پر ڈھکن نہ ہونے اور مناسب روشنی کے فقدان کی وجہ سے یہاں سے گزرنے والی خاتون اپنی بیٹی سمیت گہرے گٹر میں جا گریں۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ماں بیٹی کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم گھنٹوں گزرنے کے باوجود تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا جس کے باعث اہل خانہ شدید کرب میں مبتلا ہیں۔
اس دلخراش واقعے نے سرکاری اداروں کی نااہلی اور باہمی رابطے کے فقدان کو بھی بے نقاب کر دیا ہے، جہاں واسا اور ٹیپا ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے میں مصروف ہیں۔ واسا انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں اپ گریڈیشن کا کام ٹیپا کی ذمہ داری تھی اور مین ہول کو ڈھانپ کر رکھنا بھی ان کا کام تھا، جبکہ دوسری جانب ٹیپا حکام کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے بعد مین ہول کور لگانا واسا کا فریضہ ہے۔ دونوں اداروں کی اس کھینچا تانی اور ذمہ داری قبول کرنے سے گریز نے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ افسران کی اس ‘ٹیبل ٹو ٹیبل’ لڑائی نے انسانی جانوں کو سستا کر دیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کے مطابق داتا دربار جیسے گنجان آباد علاقے میں مین ہولز کو کھلا چھوڑنا کسی سانحے کو دعوت دینے کے مترادف تھا، جس کا خمیازہ آج ایک معصوم ماں اور بیٹی کو بھگتنا پڑا ہے۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور واسا و ٹیپا کی اس لڑائی کو ختم کروا کر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کریں۔