خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہاں دہشت گردوں کو ایک موافق سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان ہے جہاں سے امریکی اسلحے اور بیرونی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں قوم کو آگاہ کیا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے طاقت کے استعمال پر پُرعزم ہے اور اب تک ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
راولپنڈی (کیو این این ورلڈ)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے، جس کی بنیادی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق سیاسی ماحول ہے۔
سینئر صحافیوں کو سال 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیاب آپریشنز کیے گئے۔ سال 2024 میں مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران دہشت گردی کے 5 ہزار 400 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کی مجموعی شہادتیں 1 ہزار 235 رہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ گزشتہ سال 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 80 فیصد خیبر پختونخوا میں ہوئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتی ہے اور عالمی برادری نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں اب تک 5 ہزار 397 انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کے مطابق دہشت گردی نے 2021 میں دوبارہ سر اٹھایا، اسی سال افغانستان میں تبدیلی اور دوحہ معاہدہ ہوا جس میں افغان گروہوں نے افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے، خواتین کی تعلیم یقینی بنانے سمیت تین وعدے کیے تھے جو پورے نہیں کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام بڑی دہشت گرد تنظیمیں وہاں موجود ہیں اور ان کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے دوران پاکستان نے واضح اور سخت پیغام دیا اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا، جسے دہشت گرد عناصر استعمال کر رہے ہیں۔ افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو منظم کر رہے ہیں جبکہ وار اکانومی کے لیے دہشت گردی کو اسپانسر کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پاکستان، اسلام یا بلوچستان کی نمائندہ نہیں، یہ پوری قوم کی جنگ ہے، کسی ایک ادارے کی نہیں۔ اگر دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو یہ ہر گلی، اسکول اور دفتر تک پہنچ جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اس پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ہمیں ہر صورت جیتنی ہے اور ریاست دہشت گردوں کو ہر جگہ انگیج کر رہی ہے۔