کراچی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جیکب آباد کا رہائشی نو عمر لڑکا، جو گزشتہ چند روز سے کراچی کے اسپتال میں ریبیز کے باعث زیر علاج تھا، جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا۔ اسپتال حکام کے مطابق متوفی لڑکے کو دو ماہ قبل جیکب آباد میں آوارہ کتے نے ہاتھوں اور ٹانگوں پر کاٹ کر شدید زخمی کر دیا تھا، تاہم بروقت مناسب علاج اور ویکسینیشن نہ ہونے کے باعث اس میں ریبیز کی مہلک علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ بچے کو ایک روز قبل انتہائی تشویشناک حالت میں کراچی کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں مرض کی شدت اور وائرس کے اعصابی نظام پر حملے کے باعث ڈاکٹروں کے لیے اسے بچانا ناممکن ہو چکا تھا اور اسے صرف درد کی شدت کم کرنے کے لیے سکون آور ادویات دی جا رہی تھیں۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد رواں سال سندھ بھر میں ریبیز کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 21 سے زائد ہو چکی ہے، جس نے صوبائی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد فوری طور پر اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) کا لگوانا زندگی بچانے کے لیے ناگزیر ہے، لیکن اندرونِ سندھ کے بیشتر علاقوں میں ویکسین کی عدم دستیابی اور آگاہی کی کمی کے باعث ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی بہتات پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور تمام ضلعی اسپتالوں میں ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی قیمتی جانوں کے زیاں کو روکا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے