اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور صدر مملکت کے اعتراضات کے باوجود اہم بلز منظور

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ دیر سے شروع ہوا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اس اجلاس میں قانون سازی کے متعدد اہم بلز زیر بحث آئے، جہاں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ صدر مملکت نے دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 اور گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 پر اعتراضات اٹھائے، کہتے ہوئے کہ دانش اسکولز اتھارٹی بنانے سے پہلے صوبوں سے مشاورت کی جائے اور گھریلو تشدد بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزاؤں پر غور کرنے کا کہا گیا۔

اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 پیش کیا گیا، جسے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے متعارف کرایا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کی پیش کردہ ترمیم کو حکومت نے قبول کیا، جبکہ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ اس کے بعد بل کی منظوری دے دی گئی۔

دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 پر بھی بحث ہوئی، جہاں جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے صدر کے اعتراضات ایوان میں پڑھ کر سنائے اور صوبوں سے مشاورت نہ لینے پر وفاقی مداخلت کی نشاندہی کی۔ اسپیکر نے اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کیا، جس پر پی ٹی آئی اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے "دہشت گرد نامنظور” سمیت نعرے لگائے، جبکہ محمود خان اچکزئی اور دیگر اپوزیشن اراکین کی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ باوجود احتجاج، بل کی منظوری ہو گئی۔

گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 پیش ہونے پر جے یو آئی اراکین نے صدر کے اعتراضات پیش کیے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران کی ترامیم مسترد ہوئیں، حالانکہ عالیہ کامران نے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے بحث کی خواہش ظاہر کی۔ اسپیکر نے کہا کہ ترمیم پیش نہ کرنے والے کو بات کرنے نہ دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی اراکین نے احتجاج ختم کر دیا، مگر اقبال آفریدی اور انجینئر حمید حسین کا تیراہ آپریشن پر احتجاج جاری رہا۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ اس بل میں پہلی بار مردوں کو گھریلو تشدد سے تحفظ دیا گیا ہے۔ بل کی منظوری ہو گئی۔

ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی کے سانحہ گل پلازہ پر حکومت و اپوزیشن کی مشترکہ قرارداد پیش کی، جسے سینیٹر شیری رحمان نے سراہا اور کہا کہ یہ پاکستان کا قومی مسئلہ ہے، وفاق امداد دے۔ قرارداد منظور ہوئی، جس میں شہدا کے لیے دعا، متاثرین سے یکجہتی، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ شیری رحمان نے تقریر میں کہا کہ پیپلز پارٹی ذمہ داری لیتی ہے، لاشوں پر سیاست نہ کی جائے اور 18ویں ترمیم یا لسانیت نہ اٹھائی جائے۔ اقبال آفریدی کی مداخلت پر اسپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے کی دھمکی دی۔

علامہ راجا ناصر عباس نے غزہ پیس بورڈ کی مخالفت کی، اور کہا کہ غزہ کی آزادی کی جنگ جاری ہے، عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا، پیس بورڈ میں فلسطینی نمائندگی نہیں اور یہ "قبضہ بورڈ” ہے۔ انہوں نے اس کے خلاف قرارداد کا مطالبہ کیا۔

دانش اسکولز اتھارٹی ایکٹ 2025 کی منظوری ہوئی، جس کے تحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں دانش اسکولز کے نظم و نسق کے لیے اتھارٹی قائم کی جائے گی، جو فوری نافذ العمل ہوگا۔ کم آمدن والے گھرانوں کو ترجیح ملے گی۔ اتھارٹی قانونی ادارہ ہوگی، چیئرمین وزیراعظم، وائس چیئرمین متعلقہ وفاقی وزیر، اراکین میں سیکریٹریز، بی ایس 21+ افسران، 3 تعلیمی ماہرین، 2 نجی شخصیات شامل ہوں گے۔ منیجنگ ڈائریکٹر سیکریٹری ہوگا۔ ایگزیکٹو کمیٹی بنے گی، نصاب، معائنہ اور تعاون کا اختیار ہوگا۔ ماہرین کی نامزدگی 3 سالہ، توسیع ممکن۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے