رحیم یار خان (کیو این این ورلڈ) صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے سیاسی مخالفین کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی جیل میں صرف ڈیڑھ سال ہوا ہے، اس لیے جیل مردوں کی طرح کاٹیں اور عورتوں کی طرح رونا دھونا بند کریں۔ رحیم یار خان میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے واضح کیا کہ ہم نے ہمیشہ مشکل حالات کا مقابلہ کیا ہے، میری ہمشیرہ کو رات کی تاریکی میں گرفتار کیا گیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو پانچ سال تک سکھر جیل میں قید رکھا گیا، اس وقت کسی کو قانون اور اخلاقیات یاد نہیں آئیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پیدا ہونے کے بعد اذان کے فوراً بعد گولیوں کی آوازیں سن رکھی ہیں، اس لیے ہمیں گولیوں اور دھمکیوں سے ڈرانے کی کوشش نہ کی جائے، ہم پاکستان کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیں گے۔
صدر آصف علی زرداری نے سرائیکی وسیب سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری مادری زبان سرائیکی ہے اور ہم سرائیکیوں کی بے حد عزت کرتے ہیں، اسی لیے یوسف رضا گیلانی کو ملک کا وزیراعظم بنایا تھا۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی بی جیسی لیڈر اب نظر نہیں آتی، انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے سیاست سیکھی اور ہم نے بی بی سے تربیت حاصل کی۔ صدر زرداری نے انکشاف کیا کہ بے نظیر بھٹو کو دوست ممالک نے پاکستان واپسی سے منع کیا تھا مگر انہوں نے عوامی وعدے کو ترجیح دی، ان کے نصیب میں شہادت لکھی تھی، میں نے انہیں گاڑی میں بیٹھتے وقت جانے سے منع بھی کیا تھا لیکن وہ ایک نہ ڈرنے والی بھٹو کی بیٹی تھیں جنہوں نے عوام کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
اپنے خطاب کے دوران صدر مملکت نے سیاسی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جتنا آپ جھکیں گے اتنی ہی عزت ملے گی، سیاست میں صبر اور استقامت ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی ملک کی سالمیت اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ بی بی کے مشن کو آگے بڑھائیں اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ صدر زرداری کے اس خطاب کو سیاسی حلقوں میں موجودہ سیاسی تناؤ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں انہوں نے ایک طرف اپنی قربانیوں کا ذکر کیا تو دوسری طرف مخالفین کو جیل کے کڑے دن ہمت سے گزارنے کا مشورہ دیا۔