اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) پاکستان ریلویز کی جانب سے اعلان کردہ بین الاقوامی مال بردار ٹرین سروس اسلام آباد-تہران-استنبول (ITI) کا آغاز 31 دسمبر 2025 سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ سروس پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط کرنے اور علاقائی تجارت میں اضافے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی تھی، لیکن بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے پر ایک دن قبل ہی اسے روک دیا گیا۔

پاکستان ریلوےز کے حکام کے مطابق، ٹرین سروس کا آغاز 31 دسمبر سے طے تھا۔ ٹرین اسلام آباد سے روانہ ہو کر سیبی کے راستے سپیزنڈ جنکشن پہنچتی، پھر نوشکی اور دالبندین سے گزرتے ہوئے میرجاہ (Mirjaveh) کے ذریعے ایران میں داخل ہوتی۔ کوئٹہ ڈویژن کے ریلوے حکام نے ٹرین کی آمد کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، بشمول آپریشنل اور لاجسٹک انتظامات۔ تاہم، متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے کلیئرنس نہ ملنے پر سروس شروع نہ ہو سکی۔

یہ ٹرین سروس اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے فریم ورک کے تحت 2009 میں ٹرائل کے طور پر شروع کی گئی تھی، جو پاکستان سے تقریباً 1900 کلومیٹر، ایران سے 2570 کلومیٹر اور ترکی سے 2000 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ کل فاصلہ تقریباً 6500 سے 8000 کلومیٹر ہے۔ یہ سروس سمندری راستے کے مقابلے میں وقت اور لاگت کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی تھی، کیونکہ سمندری جہازوں کو پاکستان سے استنبول تک 30-40 دن لگتے ہیں جبکہ ٹرین سے 12-25 دن میں سامان پہنچایا جا سکتا ہے۔
پچھلے سالوں میں یہ سروس متعدد بار شروع اور معطل ہو چکی ہے۔ 2021-2022 میں ٹرائل رنز چلائے گئے تھے، جن میں پاکستان سے پنک سالٹ اور دیگر اشیا ایران اور ترکی بھیجی گئیں۔ تاہم، بلوچستان میں جاری عدم استحکام، دہشت گردی اور انسدادِ تشدد کی وجہ سے یہ سروس بار بار متاثر ہوئی۔ 2025 کے پہلے 11 مہینوں میں پاکستان میں تشدد میں 25 فیصد اضافہ ہوا، جس میں 96 فیصد اموات اور 92 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ایرانی سفیر رضا امیری نے دسمبر کے آغاز میں اس سروس کی بحالی کا اعلان کیا تھا، لیکن سیکیورٹی کلیئرنس کی عدم دستیابی نے منصوبے کو ایک بار پھر تاخیر کا شکار کر دیا۔ پاکستان ریلوےز کے کراچی ڈویژن کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ محمود الرحمٰن لاکھو نے تصدیق کی کہ سیکیورٹی کلیئرنس کا انتظار ہے اور نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

یہ تاخیر علاقائی تجارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ ITI راہداری جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا اور یورپ کو جوڑنے والا اہم زمینی تجارتی راستہ بن سکتی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی مسائل حل کیے بغیر اس طرح کے منصوبوں کی مستقل بحالی مشکل ہے۔ پاکستان ریلوےز نے واضح کیا ہے کہ آپریشنل تیاریاں مکمل ہیں اور سیکیورٹی کلیئرنس ملتے ہی سروس شروع ہو جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے