ایران کے امریکی اڈوں اور اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے حملے

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)ایران نے اسرائیل اور امریکا کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ڈرون ہینگرز، ویپن سپورٹ تنصیبات اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق آپریشن "وعدہ صادق” کی 87ویں لہر کے دوران دشمن کے اہم اہداف پر تابڑ توڑ حملے کیے گئے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل کے شہر حیفا میں آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا جہاں حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور شعلے آسمان تک بلند ہوتے دیکھے گئے۔ اس کے علاوہ امریکی اور اسرائیلی افواج سے متعلق مختلف تنصیبات اور مراکز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانے پر رکھا، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے کمانڈ مراکز پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ سعودی عرب کے قریب ایک بحری جہاز کو پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ مزید یہ کہ سعودی عرب میں امریکی وارننگ سسٹم کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

خلیجی خطے میں بھی کشیدگی کے اثرات دیکھنے میں آئے، جہاں شارجہ میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کی عمارت پر ایرانی ڈرون حملہ رپورٹ ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ کویتی حکام کے مطابق دبئی کے قریب سمندر میں ایک بڑے آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم عملہ محفوظ رہا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں امریکا اور اسرائیل کے پائلٹوں کی کمین گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی بھی فیصلہ ایران کی شرائط پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے مسلح افواج کا کردار تاریخی ہے اور ایران اپنے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی قسم کی براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستان سمیت مختلف ممالک سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ادھر امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع میں پاکستان کا ثالثی کردار وسیع تر علاقائی مفاد میں ہے اور پاکستان ہر ممکن سفارتی سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

امریکی سیاستدانوں کی جانب سے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔ ریپبلکن رکن کانگریس رائن زنک نے امن مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے پاکستانی قیادت کے اقدام کو قابل تعریف قرار دیا۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کھولے بغیر ہی جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں، جبکہ انہوں نے ایران کو تنبیہ کی ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کی توانائی اور انفراسٹرکچر تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران میں نئی قیادت کے ساتھ معاملات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایرانی قیادت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

برطانیہ نے ایران کے خلاف کسی بھی زمینی کارروائی میں شامل نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ اس کی نہیں، تاہم دفاعی اقدامات جاری رکھے جائیں گے اور خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔

دبئی میں دفاعی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے ایک رہائشی عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے جس میں چار افراد زخمی ہوئے، تاہم ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔

ادھر پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، ترکیہ، قطر، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد مسلم ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مقدس مقامات کے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق حالیہ حملوں اور بیانات کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال نہایت کشیدہ ہو چکی ہے اور اگر فوری سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے