تہران:(کیو این این ورلڈ) ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کرتے ہوئے 26 صوبوں کے 78 شہروں تک پھیل چکے ہیں، جس کے بعد ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ عدالتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبوں کے پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی ہے کہ شرپسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اسلامی جمہوریہ ایران احتجاج کرنے والے عام شہریوں اور تخریب کار عناصر کے درمیان واضح فرق کا قائل ہے اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے ‘ایچ آر اے این اے’ (HRANA) کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی خونی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی ہے جبکہ فائرنگ کے مختلف واقعات میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی بھاری نفری کی تعیناتی، آنسو گیس کے استعمال اور بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ تھم نہ سکا اور اب جامعات کے طلبہ بھی ان احتجاجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے اب تک مختلف شہروں سے 990 افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے تاکہ احتجاج کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے عوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے معاشی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت شہریوں کو آئندہ 4 ماہ تک 7 ڈالر ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا۔ اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلیباف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ احتجاج کرنے والے شہریوں کے جائز مطالبات کو ضرور تسلیم کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی ایجنٹوں کی سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ معاشی بحران کے باعث پیدا ہونے والی یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے اب جہاں ایک طرف سخت قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں وہیں دوسری جانب معاشی مراعات کے ذریعے غم و غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔