تل ابیب/دیمونا (کیو این این ورلڈ): ایران نے میزائل مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کی جانب فائر کئے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل رہائشی علاقوں میں گرے،گاڑیوں اور مکانات کو نقصان پہنچا اور اسرائیلی دفاعی نظام کئی میزائل روکنے میں ناکام رہا۔
اتوار کو دیمونا اور عراد میں کیے گئے حملوں میں دیمونا میں ایک تین منزلہ عمارت مکمل طور پر منہدم ہوئی جبکہ عراد میں کم از کم 20 عمارتیں متاثر ہوئیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں 180 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ پچھلے دنوں کی رپورٹس میں 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے امریکہ کو وارننگ دی ہے کہ اگر امریکی حملے ایران کی توانائی تنصیبات پر کیے گئے تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان امریکی صدر Donald Trump کے 48 گھنٹے کے الٹی میٹم کے جواب میں سامنے آیا۔
اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu نے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے لیکن حملے جاری رہیں گے۔ اسرائیل کی مسلح افواج نے بعض میزائلوں کو روکنے کے لیے انٹر سیپٹرز استعمال کیے، تاہم کلسٹر ہیڈز کی وجہ سے متعدد بمبلٹس شہری علاقوں میں گر گئے۔
یہ تنازعہ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی جوہری ایجنسی نے دیمونا میں تابکاری کے غیر معمولی اضافے کی تصدیق نہیں کی، تاہم اسرائیل میں شہری ڈھانچے اور بنیادی سہولیات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ جاری ہے، اور ایران و اسرائیل کے درمیان فوجی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری نے فوری تحمل اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔