اسرائیل نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ کیا، عالمی منڈی میں ہلچل

لندن/ریاض/تہران/دوحہ (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں توانائی تنصیبات پر حملوں، جوابی کارروائیوں اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے باعث نہ صرف خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی تیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی مارکیٹ اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت میں 7 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 111 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 3.1 فیصد اضافے کے بعد 99.3 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے ایران کی جنوبی ساحلی پٹی پر واقع دنیا کی سب سے بڑی گیس تنصیبات میں شمار ہونے والی ساؤتھ پارس فیلڈ کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد گیس کی پیداوار معطل ہوگئی، جس سے نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ فیلڈ ایران اور قطر کی مشترکہ ملکیت ہے اور عالمی گیس مارکیٹ میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

ایران نے اس حملے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے فوری اور سخت ردعمل کا اعلان کیا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ خطے میں وہ تمام توانائی تنصیبات جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیر انتظام ہیں، اب ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔ اسی سلسلے میں ایران نے سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور جبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس، متحدہ عرب امارات کی الحصن گیس فیلڈ اور قطر کی راس لفان ریفائنری و مسيعید پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانے پر رکھنے کا اعلان کیا۔

اسی دوران قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ علاقہ دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی برآمدی تنصیبات میں شامل ہے، جس کے باعث عالمی گیس سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم قطری حکام کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں اور اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں نہ صرف کشیدگی بڑھاتی ہیں بلکہ عالمی توانائی سکیورٹی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔

دوسری جانب قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک نے بھی ان حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی استحکام کے لیے خطرناک ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔

ادھر امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں سے روک دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ایران کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے اور مزید حملے صورتحال کو بے قابو کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی اشتعال انگیزی کی تو امریکی پالیسی میں تبدیلی آ سکتی ہے اور دوبارہ سخت اقدامات کی حمایت کی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات براہ راست عالمی معیشت پر پڑتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف تیل بلکہ گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے