تہران (کیو این این ورلڈ) ایران بھر میں جاری حالیہ مظاہروں کے دوران گزشتہ 10 دنوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 36 تک پہنچ گئی ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپوں اور غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہلاک شدگان میں 34 مظاہرین اور 2 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی حتمی تعداد تو جاری نہیں کی تاہم تین سکیورٹی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے شہریوں میں سے 4 کی عمریں 18 سال سے کم بتائی جا رہی ہیں، جبکہ بدامنی کے دوران اب تک 60 سے زائد مظاہرین زخمی اور 2 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کی یہ لہر ایران کے 31 میں سے 27 صوبوں تک پھیل چکی ہے، جبکہ مغربی صوبے الیام کے علاقے ملکشاہی میں ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے جہاں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن جاری ہے۔ مظاہروں کے دسویں روز تہران کے گرینڈ بازار اور مشہد کے تجارتی مراکز میں وسیع پیمانے پر ہڑتال دیکھی گئی، جس کے باعث سونے، کرنسی، جوتوں اور گھریلو اشیاء کی مارکیٹیں مکمل یا جزوی طور پر بند رہیں۔ سکیورٹی فورسز نے تجارتی مراکز کے گرد پہرہ بڑھا کر اجتماعات کو روکنے کی کوشش کی، تاہم ہڑتال کی وجہ سے روزمرہ کی اقتصادی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے