قاہرہ/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ):بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ محمد البرادعی نے ایران کے خلاف دی جانے والی عسکری دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات اور اقدامات عراق جنگ سے قبل کی گئی تیاریوں اور پروپیگنڈے کی یاد دلاتے ہیں، جن کے نتائج پوری دنیا نے دیکھے۔
محمد البرادعی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف یکطرفہ حملوں کی دھمکیاں ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب ایران کی جانب سے کوئی واضح، فوری یا ناقابلِ تردید خطرہ موجود نہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی دھمکیاں اور ممکنہ عسکری کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہوں گی بلکہ خطے کو ایک اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
سابق سربراہ آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کی باتیں سن کر وہی فضا محسوس ہو رہی ہے جو عراق کے خلاف غیر اخلاقی اور غیر قانونی جنگ سے پہلے پیدا کی گئی تھی، جہاں مبینہ خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور بعد ازاں پوری دنیا نے اس کے سنگین انسانی اور علاقائی نتائج بھگتے۔
البرادعی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع اور پورے خطے کی تباہی اب کسی کے لیے مسئلہ ہی نہیں رہی، اور عالمی طاقتیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر آمادہ نظر نہیں آتیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر دے گی۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ یہ بیان دے چکے ہیں کہ امریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق ان بیانات نے ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان تناؤ کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔