لندن (کیو این این ورلڈ): معروف ٹی وی اینکر اور ‘سرعام’ فلاحی گروپ کے سربراہ اقرار الحسن نے پاکستان کے سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلی لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر اپنی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ لندن میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ 15 جنوری 2026 کو اپنی سیاسی جماعت لانچ کرنے جا رہے ہیں، جس کے بعد وہ آئندہ انتخابات کی بھرپور تیاری کریں گے۔ اقرار الحسن نے موجودہ سیاسی ڈھانچے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں ‘دکانیں’ بن چکی ہیں جہاں موروثی سیاست کا راج ہے، جبکہ ان کا مقصد ایک ایسا ادارہ بنانا ہے جو فرد یا خاندان کے بجائے عوام کی ملکیت ہو اور جہاں فیصلے میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں۔
اقرار الحسن نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ میں سیاسی پارٹیاں ادارے کے طور پر کام کرتی ہیں جہاں قیادت تبدیل ہوتی رہتی ہے، مگر پاکستان میں گزشتہ 30 سالوں سے صرف چند مخصوص نام ہی گردش کر رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ نظام کو دنیا کی سب سے بڑی ‘آمریت’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم افراد کے بجائے نظام کی تبدیلی کے لیے نہیں لڑیں گے، شکست عوام کا مقدر رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسا ‘نیا پاکستان’ بنانا چاہتے ہیں جس کا وعدہ تو کیا گیا لیکن اسے کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا، اور ان کی سیاست کا واحد مقصد عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہے۔
اگرچہ اقرار الحسن نے اپنی گفتگو میں جماعت کے نام کا واضح اعلان نہیں کیا، تاہم ان کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نئی سیاسی جماعت سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جماعت ‘آل پاکستان مسلم لیگ’ (اے پی ایم ایل) کے نام سے تشکیل دی جائے گی اور اس حوالے سے ممبران کے درمیان اتفاقِ رائے بھی پیدا ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے اور اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر ‘اے پی ایم ایل’ کی رجسٹریشن ختم کر کے اس کا انتخابی نشان ‘عقاب’ واپس لے لیا تھا۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اقرار الحسن اس پرانے نام کو دوبارہ کیسے رجسٹرڈ کرواتے ہیں یا وہ کسی نئے نام اور انتخابی نشان کے ساتھ سیاسی میدان میں قدم رکھتے ہیں۔