دی ہیگ (کیو این این ورلڈ):سندھ طاس معاہدے کے تحت جاری تنازع میں پاکستان کو ایک اہم قانونی اور طریقہ کار کی کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ دی ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت (کورٹ آف آربٹریشن) نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم متنازع پن بجلی منصوبوں کا تفصیلی آپریشنل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عالمی ثالثی عدالت نے 29 جنوری 2026 کو جاری ہونے والے عبوری حکم (Procedural Order No. 19) میں بھارت کو ہدایت کی ہے کہ وہ چناب دریا پر قائم بگلیہار (Baglihar) اور نیلم دریا پر واقع کشن گنگا (Kishanganga) پن بجلی منصوبوں کے آپریشنل لاگ بکس، بالخصوص پانی ذخیرہ کرنے (Pondage) سے متعلق ریکارڈ، 9 فروری 2026 تک عدالت میں جمع کرائے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر بھارت یہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہا تو اسے اس کی باضابطہ وجوہات تحریری طور پر بتانا ہوں گی۔
عدالت نے پاکستان کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ 2 فروری 2026 تک یہ وضاحت کرے کہ اسے کن مخصوص دستاویزات اور کس نوعیت کے ڈیٹا کی ضرورت ہے، تاکہ مقدمے کی آئندہ سماعت میں ان نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
عالمی ثالثی عدالت کے مطابق کیس کے دوسرے مرحلے (Second Phase on the Merits) کی سماعت 2 اور 3 فروری 2026 کو دی ہیگ میں ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سماعت بھارت کی ممکنہ غیر حاضری کے باوجود مقررہ تاریخوں پر ہی ہوگی اور اسے مؤخر نہیں کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے، کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف “رن آف دی ریور” نوعیت کے پن بجلی منصوبے بنانے کی اجازت ہے، جن میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش انتہائی محدود ہوتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت ان منصوبوں میں عملی طور پر معاہدے سے زیادہ پانی ذخیرہ کر کے پاکستان کے آبی حقوق کو متاثر کر رہا ہے، جس کا اصل ثبوت آپریشنل ریکارڈ اور لاگ بکس ہی فراہم کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، جس کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حوالے کیے گئے۔ بھارت کی جانب سے 2025 میں معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اعلان کے باوجود عالمی ثالثی عدالت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر ختم یا غیر مؤثر نہیں کر سکتا۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت عدالت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرتا ہے تو اس سے پاکستان کو اپنے مؤقف کے حق میں مزید شواہد مل سکتے ہیں، جبکہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں بھارت کی قانونی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔