برطانوی اخبار "دی ٹیلی گراف” کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن میں بھارت کی بھرپور مخالفت کے باوجود پاکستان نے غیر معمولی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے امریکی قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عملی تعاون اور ذمہ دارانہ رویے کی بدولت اب امریکہ پاکستان کو خطے میں ایک ایسے لازمی ساتھی کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔

برطانوی اخبار "دی ٹیلی گراف” نے اپنی ایک حالیہ اور چشم کشا رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی شدید ترین سفارتی لابنگ اور دباؤ کے باوجود، اس بار پاکستان نے امریکہ میں واضح سفارتی برتری حاصل کر لی ہے۔ اخبار کے مطابق، پاکستان کی اس غیر معمولی کامیابی کا سہرا اس کی "خاموش لیکن مؤثر” سفارت کاری کے سر ہے، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل کی کہ پاکستان خطے میں محض ایک سیکیورٹی اتحادی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور ناگزیر تزویراتی شراکت دار ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعلقات میں اس بڑی تبدیلی کا نقطہ آغاز ایبی گیٹ حملے کے مطلوبہ ملزم شریف اللہ کی پاکستان کی جانب سے امریکہ حوالگی بنی، جس نے صدر ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے درمیان اعتماد کی ایک ایسی بنیاد رکھ دی جو گزشتہ کئی دہائیوں میں مفقود تھی۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی اس سفارتی فتح کا سب سے نمایاں پہلو وہ لمحہ تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عملی تعاون پر پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جس نے نئی دہلی کے ان تمام دعوؤں کو پسِ پشت ڈال دیا جن میں پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ دی ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ بھارت نے واشنگٹن میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف زبردست مہم چلائی، تاہم وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس کے ‘اوول آفس’ تک براہِ راست رسائی اور وہاں ہونے والی تزویراتی گفتگو نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کے لیے اب جنوبی ایشیا کے معاملات میں پاکستان کی اہمیت بھارت کے متبادل سے کہیں زیادہ ہے۔

اخبار نے مزید لکھا کہ پہلگام کے واقعے کے بعد جب پاک بھارت جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے، تو بھارت نے امریکی ثالثی کے کسی بھی امکان کو کھلے الفاظ میں مسترد کر کے سخت گیر موقف اپنایا، جبکہ اس کے برعکس پاکستان نے ایک میچور اور ذمہ دار ایٹمی قوت کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے وائٹ ہاؤس کو اپنی غیر روایتی سفارت کاری کے ذریعے اس بات پر قائل کیا کہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ نے نہ صرف پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا بلکہ اسے جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر بھی قبول کر لیا۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک بڑی سفارتی ہزیمت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اب واشنگٹن میں پاکستان کی آواز کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اور احترام کے ساتھ سنا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے