کولمبو (کیو این این ورلڈ) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ہائی وولٹیج مقابلے میں پاکستان کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کی پہلی وکٹ صرف پہلے ہی اوور میں گر گئی ہے۔ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی اور خود گیند بازی سنبھالتے ہوئے پہلے ہی اوور میں بھارتی اوپنر ابھیشیک شرما کو بغیر کوئی رن بنائے پویلین کی راہ دکھا دی۔ اس اہم میچ کے آغاز پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے درمیان روایتی مصافحہ نہ ہونا بھی توجہ کا مرکز رہا، جس نے میدان میں تناؤ کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پاکستان نے اس میچ کے لیے اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، بابر اعظم، عثمان خان اور شاہین آفریدی جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل وننگ کمبی نیشن کو برقرار رکھا ہے، جبکہ بھارتی ٹیم نے دو تبدیلیاں کرتے ہوئے ابھیشیک شرما اور کلدیپ یادو کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا ہے۔
کولمبو میں ہونے والا یہ مقابلہ دونوں ٹیموں کے اعصاب کا کڑا امتحان ثابت ہو رہا ہے جہاں ایک طرف بھارتی بیٹنگ لائن اپنی مہارت دکھانے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف پاکستانی شاہینوں نے ابتدائی اوور میں ہی کامیابی حاصل کر کے اپنے عزائم ظاہر کر دیے ہیں۔ بھارتی بیٹرز کو خاص طور پر پاکستانی بولر عثمان طارق کے منفرد بولنگ ایکشن سے سخت پریشانی کا سامنا ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارتی ٹیم نے نیٹ سیشنز کے دوران خصوصی پریکٹس بھی کی تھی، تاہم میچ کے آغاز میں ہی وکٹ گرنے سے بھارتی بیٹنگ لائن دباؤ کا شکار نظر آتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سلمان علی آغا کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ اور پھر خود پہلی وکٹ حاصل کرنا پاکستان کے لیے ایک بہترین آغاز ہے جو میچ کے حتمی نتیجے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کی نظریں اب کریز پر موجود بھارتی بیٹرز اور پاکستانی بولنگ اٹیک پر جمی ہوئی ہیں، جہاں ہر گیند پر سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی، ابرار احمد اور عثمان طارق کی موجودگی بھارتی ٹیم کے لیے بڑے ہدف کا حصول مشکل بنا رہی ہے، جبکہ بھارتی ٹیم اپنے بیٹنگ کے ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے اسکور بورڈ پر معقول مجموعہ سجانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پچ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کپتان سلمان آغا کی حکمت عملی اب تک کامیاب دکھائی دے رہی ہے اور شائقین پرامید ہیں کہ پاکستانی بولرز اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بھارت کو کم سے کم اسکور پر محدود کرنے میں کامیاب رہیں گے۔