نئی دہلی: بھارت نے توانائی کے قوانین میں بڑی تبدیلی کی تیاری کرتے ہوئے 214 ارب ڈالر کے جوہری منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی ٹی وی چینل بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرِ جوہری توانائی جیتندر سنگھ نے بتایا کہ نیا جوہری بل اس ہفتے کابینہ میں پیش کیا جائے گا اور رواں پارلیمانی سیشن میں منظوری کے لیے رکھا جائے گا۔
وزیر کے مطابق نئے بل کا مقصد نجی شعبے کو جوہری توانائی میں سرمایہ کاری کی اجازت دینا اور کاروباری عمل کو آسان بنانا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف ہے کہ 2047 تک بھارت میں 100 گیگا واٹ جوہری توانائی پیدا کی جائے تاکہ ملک کو ایک ترقی یافتہ معیشت بنایا جا سکے۔
فی الحال بھارت میں نجی کمپنیوں کا کردار صرف آلات کی فراہمی تک محدود ہے، تاہم نئی قانون سازی کے بعد وہ بجلی کی پیداوار میں بھی حصہ لے سکیں گی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت جوہری ذمہ داری کے قانون میں بھی ترمیم کرے گی، جو اب تک غیر ملکی کمپنیوں کے منصوبوں میں رکاوٹ بنتا رہا ہے۔
بھارت میں موجودہ صورتحال کے مطابق غیر ملکی ٹیکنالوجی پر مبنی واحد پلانٹ کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے، جو روس کے تعاون سے چل رہا ہے، جبکہ مزید 4 ری ایکٹرز زیرِ تعمیر ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت روس کے ساتھ ایک اور منصوبہ جلد شروع کیے جانے کا امکان ہے۔