نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارت نے مالی سال 2026 کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد کا نمایاں اضافہ کرتے ہوئے مجموعی دفاعی اخراجات کے لیے 85 ارب ڈالر سے زائد کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس بھاری رقم میں بھارتی افواج کی تنخواہیں، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنز اور جدید دفاعی ساز و سامان کی خریداری شامل ہوگی۔ بھارتی حکومت نے اپنی افواج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے 2.19 لاکھ کروڑ روپے الگ سے مختص کیے ہیں، جس کا مقصد دفاعی ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور نئی ہتھیاروں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

دفاعی بجٹ کے علاوہ بھارتی حکومت نے ہمسایہ ممالک کے لیے مالی امداد کی پالیسی میں بھی بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے بجٹ میں بنگلادیش کے لیے مالی امداد کو براہِ راست نصف کر دیا گیا ہے؛ گزشتہ بجٹ میں بنگلادیش کے لیے 1.2 ارب روپے رکھے گئے تھے تاہم 2026 کے بجٹ میں اسے کم کر کے صرف 60 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بھارت نے افغانستان کے لیے اپنی مالی امداد میں 50 کروڑ روپے کا اضافہ کیا ہے، جس کے بعد افغانستان کے لیے مختص رقم 1.5 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تبدیلیاں خطے میں بھارت کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔

بھارت کی جانب سے بجٹ 2026 میں بھوٹان، سری لنکا، نیپال، ماریشیس اور لاطینی امریکی ممالک کے لیے بھی امدادی پیکجز میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ میانمار اور مالدیپ کے لیے مختص امداد میں کمی کر دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی بجٹ میں اس قدر بھاری اضافے سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی آنے کا خدشہ ہے، جبکہ امداد میں رد و بدل کے فیصلے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھارت کے حالیہ سیاسی و سفارتی تناؤ کے تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں۔ ان مالیاتی اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے معاشی مراعات کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے