وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی صورت اصول پرست نہیں بلکہ مکمل طور پر اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں، ان کے ڈی این اے میں مذاکرات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات ہمیشہ "کچھ لو اور کچھ دو” کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں لیکن عمران خان نے اپنی پوری زندگی صرف ذاتی مفاد کو ترجیح دی ہے، اگر پی ٹی آئی اپنا "ہاؤس ان آرڈر” کر لے تو بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے متعدد بار پی ٹی آئی کو مذاکرات کی سنجیدہ دعوت دی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس مثبت پیشکش کے جواب میں دوسری جانب سے ہمیشہ سخت شرائط سامنے رکھی جاتی ہیں جو مذاکراتی عمل میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔
قومی ایئرلائن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ چار سال قبل پی ٹی آئی دور کے ایک وزیر کے غیر ذمہ دارانہ بیان کی وجہ سے پورا ایوی ایشن سیکٹر بحران کا شکار ہو گیا تھا، تاہم گزشتہ روز پی آئی اے کی کامیاب بولی لگنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے جس سے قومی ایئرلائن کی سروسز میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس اب بھی پی آئی اے کے 25 فیصد شیئرز موجود ہیں اور نجکاری کا فیصلہ ناگزیر تھا کیونکہ جس نہج پر ایئرلائن چل رہی تھی وہ جلد بند ہو جاتی۔ خواجہ آصف نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نجکاری کے اس عمل سے نہ صرف قومی ادارے کی ساکھ بحال ہوگی بلکہ مسافروں کو بہتر سفری سہولیات بھی میسر آئیں گی۔