اسلام آباد،لاہور،کراچی(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے توشہ خانہ ٹو کیس کے عدالتی فیصلے کو انصاف پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے کروڑوں روپے کے تحائف کی قیمت کم ظاہر کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور تحائف اپنی ذات کے لیے رکھ لیے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے وزیراعظم ہاؤس کو کاروبار بنا رکھا تھا اور تحائف بیچ کر منافع کمایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 60 کروڑ روپے کے تحائف کی قیمت صرف 13 لاکھ روپے ظاہر کرنا قوم کے ساتھ مذاق ہے۔
وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس واضح اور اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، اور یہ بحیثیت قوم شرمندگی کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی آڈیو اور ویڈیوز نے واضح کیا کہ یہ کام سابق وزیراعظم کے دور میں ہوا، اور اگر علم نہ بھی تھا تو وہ قصور وار ہیں۔
وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں ہونے والی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو آئین و قانون کے مطابق سزا دی گئی، جبکہ سیاسی انتقام اور جھوٹے مقدمات کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھی کہا کہ توشہ خانہ ٹو میں سزا آئین و قانون کے مطابق ہوئی، اور پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں تحائف کے جعلی اندراجات اور کرپشن کے واقعات سامنے آئے۔