کراچی (کیو این این ورلڈ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے صوبے میں کسی قسم کا فوجی آپریشن کیا گیا تو اسے ‘کھلی بدمعاشی’ تصور کیا جائے گا۔ کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تنقید کی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ ان کی بہنوں کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی حکومت کو ایک سوچے سمجھے ‘لندن پلان’ کے تحت غیر قانونی طور پر ختم کیا گیا اور اب حق کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے تحریک انصاف کی کارکردگی پر اعتماد کرتے ہوئے اسے تیسری بار مینڈیٹ دیا ہے، اور وہ کسی کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ان کے صوبے کے معاملات میں مداخلت کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ منعقد کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو 15 نکاتی ایجنڈے پر متفق کیا تھا، جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ڈائیلاگ ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے لیے سامنے والے فریق کا بااختیار ہونا ضروری ہے، تاہم موجودہ حالات میں مذاکرات کی دعوت کے پیچھے نیت صاف نظر نہیں آتی۔ وفاقی بقایاجات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کے این ایف سی شیئر سمیت 4 ہزار 758 ارب روپے ادا کرنے ہیں، جبکہ ان کا صوبہ سستی بجلی اور صحت کارڈ جیسی سہولیات سے پورے ملک کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔