لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد،ڈیرہ غازیخان (کیو این این ورلڈ) موسم سرما نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بلوچستان کے کوئٹہ سمیت متعدد شہروں میں تیز برفباری اور بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب، سندھ اور کراچی میں بھی شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں پر پھسلن، لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں کی طغیانی اور ٹریفک کی بندش کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان میں پی ڈی ایم اے نے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
22 جنوری کو کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی اور ژوب میں تیز بارش اور برفباری سے سڑکوں پر پھسلن اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا شدید خطرہ ہے۔ اسی طرح 22 اور 23 جنوری کے دوران ناران، کاغان، دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، اسکردو، مری، گلیات، وادی نیلم، باغ، پونچھ، حویلی اور راولاکوٹ میں سڑکیں بند ہو سکتی ہیں اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوگی۔ این ایچ اے سڑکوں کو برف سے صاف کرنے میں مصروف عمل ہے۔
تیز بارش اور شدید برفباری سے بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے ندی نالوں میں طغیانی، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودوں کا گرنا یقینی ہے۔ محکمہ موسمیات نے تمام شہریوں خاص طور پر سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاط کی ہدایت کی ہے۔ پنجاب اور بالائی سندھ کے میدانی علاقوں میں دھند کا بھی خطرہ ہے۔
جمعرات 22 جنوری کو خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، بالائی و وسطی پنجاب اور شمالی و شمال مشرقی بلوچستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے۔ بالائی علاقوں میں شام اور رات کے دوران درمیانی سے شدید بارش اور برفباری کا امکان ہے۔ جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازیخان میں بارش جاری ہے جبکہ سندھ اور جنوبی بلوچستان میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک سمیت بارش ہوگی۔
جمعہ 23 جنوری کو بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد اور بالائی پنجاب میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں درمیانی سے شدید بارش اور برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے کا تسلسل 27 جنوری تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں سرد اور خشک موسم رہا مگر پہاڑی علاقوں میں شدید سردی اور جزوی ابر آلودگی کا راج رہا۔ بلوچستان میں قلات نے سب سے زیادہ 15 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی، پشین 07، کوئٹہ (سمنگلی 06، شیخ ماندہ 03)، پسنی 04، سبی 02، لسبیلہ اور دالبندین 01 ملی میٹر بارش ہوئی۔ خیبرپختونخوا میں پاراچنار 07 ملی میٹر، دروش 02 اور بنوں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ اس دوران پاراچنار، کوئٹہ اور قلات میں 2 انچ برفباری بھی ہوئی۔
سب سے کم درجہ حرارت لہہ میں منفی 11، گوپس، اسکردو، بگروٹ اور پاراچنار میں منفی 5، کالام میں منفی 4، مالم جبہ میں منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ بلوچستان کے زیارت، کان مہترزئی، مسلم باغ، توبہ کاکڑی اور توبہ اچکزئی میں رات سے مسلسل بارش اور برفباری جاری ہے۔ کوئٹہ کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا گیا، کوڑک ٹاپ اور خواجہ عمران میں منفی 3 ڈگری ریکارڈ ہوا۔
لاہور جزوی ابر آلود ہے، اگلے دو دن وقفے وقفے سے بارش اور درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے۔ راولپنڈی، اسلام آباد اور گردونواح میں تیز ہواؤں سمیت گرج چمک کے ساتھ بارش ہوگی۔ آزاد کشمیر کے پہاڑوں پر ہلکی برفباری شروع ہو گئی ہے۔ کراچی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک سمیت معتدل بارش کا امکان ہے، درجہ حرارت 7 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا، جمعہ سے سردی کی شدت بڑھ جائے گی۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور پہاڑی سڑکوں سے دور رہیں اور تمام حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔ پی ڈی ایم اے اور متعلقہ ادارے ایمرجنسی حالات کے لیے تیار ہیں۔