پشاور، کوئٹہ، لاہور (کیو این این ورلڈ) موسم سرما نے اپنی پوری شدت دکھا دی ہے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور مری سمیت ملک بھر کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور بارش سے نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا ہے۔ وادی تیراہ میں 100 کے قریب گاڑیاں برف میں پھنس گئیں، بلوچستان میں پھسلن سے 2 افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہوئے۔
ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بارش اور شدید برفباری سے 100 کے قریب گاڑیاں روڈ پر پھنس گئیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی خود ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے جیو نیوز کو بتایا کہ "وادی تیراہ میں بہت زیادہ برفباری ہوئی ہے، کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں جنہیں ریسکیو کیا جا رہا ہے۔” امدادی کارروائیوں میں دشواری ہے مگر بھاری مشینری سے سڑکیں صاف کی جا رہی ہیں۔
سیکرٹری ریلیف سہیل خان نے بتایا کہ 35 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ پشاور، نوشہرہ، صوابی اور مردان سے ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ 50 سے زائد اہلکار، 16 ایمبولینس اور کمبل، سوئٹرز، بستر سمیت 10 امدادی ٹرک روانہ ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔
بلوچستان کے شمال بالائی علاقوں میں برفانی طوفان کا سلسلہ جاری ہے۔ زیارت جانے والے سیاحوں کی کئی گاڑیاں کوئٹہ-زیارت شاہراہ پر پھنس گئیں۔ این 50 شاہراہ کان مہترزئی، خانوزئی، مسلم باغ پر ٹریفک شدید متاثر ہے۔ این 50 پر 9 حادثات میں 27 افراد زخمی ہوئے۔ کوژک ٹاپ پر سائیبرین ہوائیں چلنے سے این 25 (چمن-کوئٹہ-کراچی) شاہراہ پر درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گر گیا۔ شیلاباغ کے قریب پھسلن سے گاڑیاں ٹکرائیں، 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔
خیبرپختونخوا کے مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، کرک، چترال، کزئی میں شدید برفباری ہوئی۔ شانگلہ میں بجلی کا نظام خراب، چترال میں رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں۔ ناران میں 6 انچ، شوگران میں ڈیڑھ انچ برف پڑ چکی ہے۔ گلگت بلتستان کے استور میں 2-3 فٹ برفباری سے زمینی رابطہ منقطع، ہنزہ، نگر، چلاس، بابو سرٹاپ، نانگا پربت، بٹوگاہ، داریل، تانگیر میں سردی کی شدت بڑھ گئی۔ زلزلے سے متاثرہ چیپورسن میں خیموں میں رہنے والوں کی مشکلات بڑھ گئیں۔
آزاد کشمیر کے ہٹیاں بالا، چناری، چکوٹھی، لیپا ویلی، گنگا چوٹی، اڑنگ کیل، گریس، سرگن ویلی میں برفباری جاری ہے۔ مری ایکسپریس وے جزوی بند کر دیا گیا ہے۔ چمن کے گردونواح میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں پھنسے ہیں۔
پاک فوج، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے ریسکیو آپریشنز میں مصروف ہیں۔ وادی تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو خوراک، رہائش اور طبی سہولیات دی جا رہی ہیں۔ ریسکیو 1122 نے پشاور سے 15 اہلکار، ریکوری گاڑیاں، ایمبولینس اور طبی سامان روانہ کیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے صوبے بھر کی نگرانی کر رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ برفباری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، ندی نالوں اور پہاڑی سڑکوں سے دور رہنے کی ہدایت ہے۔ تمام متعلقہ ادارے ایمرجنسی حالات کے لیے تیار ہیں۔