جم خانہ جمبو پلس الیکشن
تحریر:سید ریاض جاذب
جمبو جیٹ طیارہ عام طور پر بوئنگ 747 کو کہا جاتا ہے، اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس میں سات سو سے زائد مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے۔ اگر اسی منطق کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم کسی طیارے کو جمبو پلس جیٹ کہیں تو اس کا مطلب ہو گا ایسا جہاز جس میں چودہ سو مسافروں کی گنجائش ہو۔
خیر، ہمارا موضوع ہرگز ہوابازی نہیں۔
ہم بات کر رہے ہیں جم خانہ کلب کے الیکشن کی، جو اس وقت واقعی ایک جمبو پلس الیکشن کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ آج ہونے والے ان انتخابات میں تقریباً چودہ سو ممبران اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جو خود اس الیکشن کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
جم خانہ کلب، جو ماضی میں سروسز اینڈ سول کلب کے نام سے جانا جاتا تھا، ہمیشہ ایک خاص شناخت رکھتا رہا ہے۔ اس کلب کی رکنیت میں پبلک آفس ہولڈرز، سرکاری افسران اور سول سوسائٹی کے مختلف اسٹیک ہولڈرز شامل رہے ہیں۔ اگرچہ انتظامی کنٹرول اکثر بیوروکریسی کے پاس رہا، لیکن اس کلب کی اصل پہچان معاشرے کے ان بڑے ناموں سے بنی جنہوں نے اسے وقار بخشا۔
ماضی کے چند نمایاں ناموں میں پروفیسر ایوب فاروقی، ملک اقبال ثاقب، ڈاکٹر کیٹن سلیم، ڈاکٹر رفاقت علی اور کئی دیگر شخصیات شامل تھیں ایسے لوگ جو سماج میں قد آور سمجھے جاتے تھے اور جن کی موجودگی کلب کے وقار کی علامت تھی۔
سروسز اینڈ سول کلب کے دور کی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ اس وقت سردار نواب محمد جمال خان لغاری ضلع ناظم تھے۔ ان کے دور میں کلب کے اندر عوام کے لیے ایک جاگنگ ٹریک بنایا گیا، جو دراصل ضلع ناظم کا منصوبہ تھا۔ افتتاح کے معاملے پر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر رانجھا صاحب چاہتے تھے کہ وہ خود افتتاح کریں، جبکہ ٹریک کو عام عوام کے لیے کھولنے پر بھی آمادگی نہیں تھی۔
یہ معاملہ ایک اصولی تنازع میں بدل گیا۔ سردار نواب محمد جمال خان لغاری نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ افتتاح وہ خود کریں گے، اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔ وہ عوام کا ایک بڑا ہجوم لے کر سروسز اینڈ سول کلب پہنچے، جاگنگ ٹریک کا افتتاح کیا اور موقع پر خطاب بھی کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ یہ کلب صرف اشرافیہ کا نہیں بلکہ عوام سے جڑا ہوا ادارہ بھی رہا ہے۔
چھوٹی سی اس یاد کے بعد ایک بار پھر حالیہ جم خانہ الیکشن کی طرف آتے ہیں۔
آج ہونے والے انتخابات میں سب سے اہم اور طاقتور عہدہ سیکریٹری کا ہے، جس کے لیے دو مضبوط امیدوار میدان میں ہیں:
مرزا محمد ظفر اقبال اور شیخ زین نقیب۔
دونوں امیدوار اثر و رسوخ، تعلقات اور حمایت کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ انتخابی معرکہ سخت ہے، مقابلہ کانٹے دار ہے، اور نتیجہ کسی بھی پل پلٹ سکتا ہے۔
آج شام فیصلہ ہو جائے گا کہ جم خانہ کا ہما کس کے سر جمے گا—اور یہ جمبو پلس الیکشن تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔