کراچی (کیو این این ورلڈ) شہرِ قائد کے معروف تجارتی مرکز ‘گل پلازہ’ میں ہفتے کی رات لگنے والی ہولناک آگ پر 33 گھنٹوں کی طویل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا ہے، تاہم ریسکیو آپریشن کے دوران مزید لاشیں ملنے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 24 ہو گئی ہے جبکہ 80 سے زائد افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے متاثرہ مقام کا دورہ کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اب تک 23 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 62 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے ایک ایک کروڑ روپے مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ عمارت کے ڈھانچے سے عجیب آوازیں آنے اور اس کے انتہائی مخدوش ہونے کی وجہ سے گرنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث فائر فائٹنگ کا عمل روک کر صرف ملبہ ہٹانے اور سرچ آپریشن پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو اور کراچی پولیس چیف آزاد خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، تاہم انتظامیہ کی رپورٹ میں غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ امدادی کارروائیوں میں پاک بحریہ، سندھ رینجرز، کے ایم سی اور ریسکیو سندھ کے اہلکاروں نے حصہ لیا، جبکہ 36 سالہ فائر فائٹر فرقان علی شہریوں کی جان بچاتے ہوئے ملبے تلے دب کر شہید ہو گئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے صورتحال دریافت کی اور وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی۔ صدر مملکت نے شہید فائر فائٹر فرقان کی شجاعت پر انہیں سول ایوارڈ دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔

سانحے کے دوران 1200 سے زائد دکانوں کو نقصان پہنچا ہے جس سے اربوں روپے کا کاروباری نقصان ہوا ہے۔ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے واقعے پر یومِ سوگ مناتے ہوئے مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور یقین دلایا کہ متاثرہ تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب سی پی ایل سی نے لاپتہ افراد کی شناخت کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کر دیا ہے جہاں ناقابلِ شناخت لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔ طبی حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 30 سے زائد افراد برنز سینٹر اور جناح ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جبکہ پولیس موبائل نمبرز کی مدد سے لاپتہ افراد کی آخری لوکیشن ٹریس کر کے انہیں تلاش کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے