کراچی (کیو این این ورلڈ) شہرِ قائد کے مصروف ترین تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے کمشنر کراچی کی تحقیقاتی رپورٹ نے حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے ذمہ داروں کو ‘کلین چٹ’ دے دی ہے، جس پر متاثرین اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں نہ تو کسی افسر کا تعین کیا گیا اور نہ ہی ریسکیو آپریشن کے دوران ہونے والی مجرمانہ غفلت کا ذکر کیا گیا ہے، جس نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر آگ عمارت کے صرف ایک حصے میں لگی تھی تو دوسرے رخ سے لوگوں کو نکالنے کے لیے داخلی دروازے کیوں نہیں توڑے گئے؟ ماہرین کے مطابق ریسکیو ٹیموں کی جانب سے وینٹی لیشن کا راستہ نہ بنانا اور شیشے توڑ کر دھوئیں کا اخراج ممکن نہ بنانا ایک بڑی تکنیکی غلطی تھی، جس نے دم گھٹنے کے باعث جانی نقصان میں اضافہ کیا۔
رپورٹ میں اس بات کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے کہ کیا فائر بریگیڈ کے پاس آکسیجن سلنڈرز، تھرمل کیمرے اور جدید اسموک ایجیکٹرز کی کمی تھی جس کی وجہ سے عملہ عمارت کے اندر داخل ہونے سے کتراتا رہا؟ اداروں کے درمیان رابطے کا فقدان اس قدر واضح تھا کہ ہائیڈرولک لفٹس اور ایمرجنسی گرین کوریڈور کا کوئی مشترکہ پلان نظر نہیں آیا۔ عوامی حلقے یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر عمارت میں فائر ایگزٹ موجود تھے تو کیا وہ تجاوزات کی نذر ہو چکے تھے یا مقفل تھے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ متعلقہ اداروں نے گل پلازہ جیسی بڑی مارکیٹ کو فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم کے بغیر ‘کلیئرنس سرٹیفکیٹ’ کس بنیاد پر جاری کیا تھا؟
کمشنر کراچی کی رپورٹ میں فائر سیفٹی آڈٹ کی تاریخ اور معائنہ کرنے والے افسران کے ناموں کا ذکر نہ ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انتظامیہ حقائق چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیا عمارت کے نقشے میں غیر قانونی تبدیلیاں کی گئی تھیں جنہیں رپورٹ میں چھپایا گیا؟ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی کی کمی کی شکایات اور ٹریفک پولیس کی ناقص حکمت عملی نے آپریشن کو مزید ناکام بنایا۔ متاثرہ تاجروں کا کہنا ہے کہ ایسی مبہم رپورٹیں صرف بڑے مگرمچھوں کو بچانے کا راستہ ہیں، کیا حکومت واقعی اصلاحات کرنا چاہتی ہے یا کسی اور بڑے سانحے کا انتظار کیا جا رہا ہے؟