کراچی (کیو این این ورلڈ) سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، جس پر سندھ کابینہ نے فوری طور پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی تھی تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

شرجیل میمن نے انکشاف کیا کہ جس وقت عمارت میں آگ لگی، وہاں تقریباً 2 ہزار سے 2500 افراد موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کا پہلے بھی دو مرتبہ سیفٹی آڈٹ ہو چکا تھا، اس کے باوجود یہ واقعہ پیش آنا سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ واقعے کے پیچھے چھپی ہر کوتاہی کا محاسبہ کیا جائے۔

صوبائی وزیر نے غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ایڈیشنل کنٹرول سول ڈیفنس ضلع جنوبی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ان افسران کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی لاپرواہی کا سدباب ہو سکے۔

پریس کانفرنس کے دوران شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہوئیں۔ اس کوتاہی کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے چیف انجینئرز بلخ، انچارج ہائیڈرنٹس اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائیڈرنٹ انچارج کو بھی عہدوں سے معطل کر دیا گیا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم معزز چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں جس میں درخواست کی جائے گی کہ اس سانحے کی تحقیقات ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج سے کرائی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے