کراچی(کیو این این ورلڈ)کراچی کے مصروف ترین علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی شب لگنے والی خوفناک آگ 32 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بجھائی نہ جا سکی۔ آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ منہدم ہو چکا ہے، جبکہ اب تک ایک فائر فائٹر سمیت 10 افراد جاں بحق، 55 افراد لاپتا اور 30 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کے باعث عمارت کے دو حصے زمین بوس ہو گئے۔ ملبے سے مزید انسانی اعضا برآمد ہوئے جن میں ایک بچے کے اعضا بھی شامل ہیں۔ چھیپا حکام نے ایک لاش ملبے تلے سے نکالی جبکہ ایک لاش ٹکڑوں کی صورت میں ملی، جنہیں ضابطے کی کارروائی کے بعد سول اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ کئی لاشوں کی شناخت تاحال ممکن نہ ہو سکی ہے۔
آگ ہفتے کی رات تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی۔ فائربریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں، اسنارکلز اور واٹر باؤزرز نے آپریشن میں حصہ لیا، تاہم آتشزدگی بار بار بھڑک اٹھنے کے باعث ریسکیو کاموں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ پر 80 فیصد تک قابو پا لیا گیا ہے، مگر عمارت کی مخدوش حالت کے باعث اندر داخل ہونا خطرناک ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ لاپتا افراد کے موبائل نمبرز کی مدد سے لوکیشن ٹریس کی جا رہی ہے، جبکہ پولیس نے ہیلپ لائن بھی قائم کر دی ہے۔ اب تک 26 افراد کی لوکیشن پلازہ کے قریب ملی ہے، باقی کی تلاش جاری ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق دھوئیں سے متاثر ہونے والے متعدد افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، جبکہ دو فائر فائٹرز پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں۔ مجموعی طور پر 30 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سینٹر، 15 ٹراما سینٹر اور 2 جناح اسپتال منتقل کیے گئے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ 55 سے زائد لاپتا افراد کے لواحقین نے فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ریسکیو آپریشن کے دوران تعاون کریں اور جائے وقوعہ سے دور رہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کا دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع کے فوراً بعد ریسکیو اداروں نے کارروائی شروع کی۔ ان کے مطابق پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں تھیں اور آگ لگنے کی ابتدائی وجہ ممکنہ شارٹ سرکٹ ہو سکتی ہے، تاہم حتمی تحقیقات کولنگ کے بعد کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے تاجروں کے نقصانات کے ازالے اور متاثرین کو ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا۔
گورنر سندھ، میئر کراچی، بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، اسپیکر سندھ اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ موجود ہے، جبکہ لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جائے گی۔ ریسکیو اور کولنگ آپریشن تاحال جاری ہے۔