گوجرانوالہ (نامہ نگارمحمد رمضان نوشاہی)گوجرانوالہ میں 5 دسمبر 2025 کو مسیحی پادری ملک کامران ناز کے قتل کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ پولیس تحقیقات سے پتہ چلا کہ مقتول کی اہلیہ سلمینہ اور ان کے مبینہ آشنا نجم الثاقب مل کر اس قتل کے ماسٹر مائنڈ نکلے۔ دونوں نے اجرتی قاتلوں کو 33 لاکھ روپے دے کر پادری کو کرسمس کے قریب قتل کروایا تاکہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھے اور وہ بیرون ملک فرار ہو سکیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق سلمینہ این جی او میں متحرک تھیں اور نجم الثاقب کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ دونوں کا پلان تھا کہ قتل کے بعد مسیحی کمیونٹی کے نام پر معاملہ عالمی توجہ حاصل کرے اور انہیں بیرون ملک پناہ مل جائے۔ پولیس نے خیبر پختونخوا سے اجرتی قاتلوں کو گرفتار کر لیا، جنہوں نے تمام انکشافات کیے۔
یاد رہے کہ 23 دسمبر کو سول لائن پولیس نے دو ملزم شوٹرز اکرام اللہ اور شعیب کو برآمدگی کے لیے لے جاتے ہوئے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو چھڑوانے کی کوشش میں ان کے تین نامعلوم ساتھیوں نے فائرنگ کی، جس میں دونوں شوٹرز اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ملزمان نے ہی 5 دسمبر کو پادری کامران ناز کو گھر کی دہلیز پر فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ ساتھی موقع سے فرار ہو گئے۔
سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی سول لائن سے رپورٹ طلب کی اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دیں۔ سی پی او کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
سول لائن پولیس نے سی پی او کی قیادت میں مرکزی ملزمہ سلمینہ، نجم الثاقب اور سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ انکشاف مسیحی کمیونٹی اور علاقے میں شدید ہلچل کا باعث بنا ہے۔ پولیس نے یقین دلایا کہ کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور تمام مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔