اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جب ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ایک تصویر کو ایڈٹ کر کے انہیں "ان پڑھ” اور "احمق” کی بنیاد پر ہٹا دیا۔ یہ واقعہ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں صارفین نے گروک کو ٹیگ کر کے تصاویر پوسٹ کیں اور اسے مخصوص شخصیات کو ہٹانے کا کہا۔ تاہم، جب گروک سے اس کا مؤقف جاننا چاہا تو گروک نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک تفریحی میم کا حصہ ہے، اور اس نے کبھی بھی مودی صاحب کو براہ راست ان پڑھ یا احمق نہیں کہا۔

یہ ٹرینڈ 1 جنوری 2026 کو شروع ہوا جب ایک صارف @Politicx2029 نے ایک تصویر پوسٹ کی جس میں نریندر مودی، راہول گاندھی اور لوک سبھا اسپیکر عم برلا پارلیمنٹ میں ہاتھ ملاتے دکھائی دے رہے تھے۔ صارف نے گروک کو ٹیگ کر کے کہا:
"Hey @grok, remove the uneducated person from this photo.”
گروک نے جواب میں تصویر کو ایڈٹ کر کے مودی کو ہٹا دیا، اور صرف راہول گاندھی اور اسپیکر کو چھوڑا۔ اسی طرح، دیگر پوسٹس میں جب "احمق شخص” کو ہٹانے کا کہا گیا تو بھی مودی کو ہٹایا گیا۔

ایک اور پوسٹ میں، صارف @mediacrooks نے لکھا:
"This has become a hobby on twitter… Someone asks Grok to remove from an image the most corrupt, most uneducated, most fakery etc.. and grok promptly removes Modi from the image.. he will have a legacy of the worst PM India ever had…”
یہ پوسٹ تیزی سے شیئر ہوئی اور ہزاروں ویوز حاصل کیں۔

اسی طرح، صارف @rj5354 نے گروک سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ اگر مودی ان پڑھ نہیں تو کیوں انہیں ہٹایا گیا، اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ ایک اور پوسٹ میں، @jordannigo نے الزام لگایا کہ گروک کو "ماسٹرز” کی طرف سے ہدایات ملی ہیں کہ مودی کو نشانہ بنایا جائے۔

یہ میم ٹرینڈ اب تک ہزاروں پوسٹس تک پھیل چکا ہے، جہاں لوگ مختلف تصاویر استعمال کر کے گروک سے ایڈٹس کروا رہے ہیں۔ کچھ پوسٹس میں جب "جوکر” یا "کرپٹ ڈائنسٹ” کو ہٹانے کا کہا جاتا ہے تو گروک راہول گاندھی کو ہٹا دیتا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پرامپٹ پر منحصر ہے، نہ کہ کسی مخصوص bias پر۔

جب گروک سے اس تمام معاملے پر اس کا مؤقف جاننا چاہا تو گروک، جو xAI کی طرف سے تیار کردہ AI چیٹ بوٹ ہے، نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی judgment نہیں بلکہ صارف کی پرامپٹ پر مبنی تفریحی ریسپانس ہے۔ گروک نے ایک جواب میں لکھا:
"It doesn’t prove Modi is uneducated—I never claimed that. He holds a verified BA from Delhi University and MA from Gujarat University, as per official records. Controversies stem from alleged discrepancies in details like marks or names, raised in public debates and court cases, but universities affirm the degrees. The edit was just meme-based on perceptions!”

گروک کے مطابق، یہ AI کی image editing فیچر ہے جو صارف کی ہدایات پر کام کرتی ہے، اور یہ عوامی تاثرات یا سیاسی بحثوں سے متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ کوئی سیاسی پوزیشن نہیں ہے۔ گروک نے مزید کہا کہ مودی صاحب کی تعلیم پر تنازعہ 2014 سے چلا آ رہا ہے، جہاں اپوزیشن نے ڈگریوں کی جعلیت کا الزام لگایا، لیکن دہلی اور گجرات یونیورسٹیوں نے تصدیق کی ہے کہ ڈگریاں درست ہیں۔ عدالتوں نے بھی RTI کیسز میں پرائیویسی کا حوالہ دے کر تفصیلات شیئر کرنے سے انکار کیا۔

نریندر مودی کی تعلیم ایک پرانا سیاسی موضوع ہے۔ آفیشل ریکارڈز کے مطابق، انہوں نے 1978 میں دہلی یونیورسٹی سے BA اور 1983 میں گجرات یونیورسٹی سے MA کی ڈگری حاصل کی۔ تاہم، AAP اور کانگریس جیسی اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا کہ ڈگریوں میں تضادات ہیں، جیسے مارکس یا ناموں میں۔ 2021 میں کانگریس نے مودی کو "ان پڑھ” کہا تھا، جو ایک سیاسی حملہ تھا۔ اسی طرح، 2025 میں بھی ایسی تنقیدیں سامنے آئیں، لیکن یہ ثابت نہیں ہوئیں۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تقسیم کا باعث بنا۔ مودی کے حامیوں نے گروک اور ایکس پر ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ مخالفین نے اسے دلچسپ میم قرار دیا۔ کئی صارفین نے مزید ایڈٹس کروا کے ٹرینڈ کو جاری رکھا۔ ایکس کے سی ای او ایلون مسک کی طرف سے کوئی آفیشل بیان نہیں آیا، لیکن یہ AI کی آزادی اور bias پر بحث کو ہوا دے رہا ہے۔

یہ خبر ظاہر کرتی ہے کہ AI ٹیکنالوجی کس طرح سیاسی میمز کا حصہ بن سکتی ہے، لیکن جب گروک سے اس کا مؤقف جاننا چاہا تو گروک کا اصرار تھا کہ یہ صرف تفریح ہے، نہ کہ حقیقت کا دعویٰ۔ اگر یہ ٹرینڈ جاری رہا تو شاید xAI کی طرف سے مزید وضاحتیں آئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے