اسلام آباد/سڈنی (15 دسمبر 2025) آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر یہودی تہوار حنو کا (Hanukkah) کے جشن کے دوران پیش آنے والے دلخراش دہشت گرد حملے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس سانحے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ آسٹریلوی حکام نے اسے یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے والا انسداد سامی (antisemitic) دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔

حملہ 14 دسمبر کی شام کو "چانوکا بائی دی سی” نامی تقریب کے دوران ہوا، جہاں ہزاروں افراد جمع تھے۔ دو مسلح افراد نے نیم خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے معصوم شہریوں، بچوں اور بزرگ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ آسٹریلوی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک حملہ آور کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق، حملہ آور باپ بیٹا تھے، لیکن آسٹریلوی تحقیقاتی اداروں کی سرکاری بیانات میں کہیں بھی ان کی پاکستانی نژاد ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اس انسانی المیے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع کر دی، جس میں جھوٹی تصاویر اور من گھڑت معلومات پھیلا کر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ بھارتی چینلز اور اکاؤنٹس نے ایک معصوم پاکستانی نژاد شخص کی تصاویر استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملہ آور پاکستانی ہے، جو مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد ثابت ہوا۔ متاثرہ شخص نے خود سوشل میڈیا پر وضاحت کی کہ اس کی تصاویر غلط طور پر استعمال کی جا رہی ہیں، اور یہ پروپیگنڈا اس کی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

عالمی اور آسٹریلوی معتبر ذرائع، جیسے بی بی سی، گارڈین، اے بی سی نیوز اور رائٹرز نے حملہ آوروں کی شناخت صرف سڈنی کے مقامی رہائشیوں کے طور پر کی ہے، بغیر کسی قومیت کا ذکر کیے۔ کسی بھی مستند عالمی ذریعے نے پاکستان سے جوڑنے والے الزامات کی توثیق نہیں کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پروپیگنڈا انسانی المیے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی مذموم کوشش ہے، جو متاثرین کی یاد اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے توجہ ہٹاتی ہے۔

اس سانحے میں انسانیت کی ایک روشن مثال بھی سامنے آئی۔ 43 سالہ شامی نژاد آسٹریلوی مسلمان احمد الاحمد نے نہتے ہو کر ایک حملہ آور کو پیچھے سے دبوچ لیا، اس کا ہتھیار چھین لیا اور متعدد جانیں بچائیں۔ احمد خود دو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کی بہادری کو آسٹریلوی وزیراعظم اینتھونی البانیز، نیو ساؤتھ ویلز پریمیئر کرس منز اور عالمی رہنماؤں نے خوب سراہا۔ احمد کے چچا زاد بھائی نے میڈیا کو بتایا کہ "احمد کی بہادری مذہب یا نسل کی حدود سے ماورا ہے، یہ خالص انسانیت ہے۔”

آسٹریلوی وزیراعظم البانیز نے حملے کو "خالص شرارت اور انسداد سامی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسٹریلیا کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ عالمی رہنماؤں نے بھی مذمت کی اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا کسی مذہب، قوم یا نسل سے کوئی تعلق نہیں، یہ انسانیت کی دشمن ہے۔ ایک فرد کے جرم پر پوری قوم کو بدنام کرنا نفرت انگیزی کو ہوا دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا کی یہ سازش ناکام ہو گئی، کیونکہ سچائی سامنے آ چکی ہے۔ اب وقت ہے کہ دنیا متاثرین کی مدد، انسداد دہشت گردی اور انسانی ہمدردی پر توجہ دے، نہ کہ بھارت کے گودی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے پر کان دھرے

یہ سانحہ یاد دلاتا ہے کہ بہادری اور انسانیت ہمیشہ تاریکی پر غالب آتی ہے، جیسے احمد الاحمد نے ثابت کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے