ڈیوس(کیو این این ورلڈ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنے مجوزہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ بورڈ عالمی سطح پر بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس فورم میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے رہنما شامل ہوں گے اور اس کا بنیادی مقصد عالمی امن کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔
ابتدائی طور پر اس بورڈ کا تصور غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے پیش کیا گیا تھا، تاہم جاری کیے گئے چارٹر کے مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا دائرہ کار صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے عالمی تنازعات کے حل تک وسعت دی گئی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 59 ممالک مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جاری کوششوں میں شامل ہیں اور ان میں سے کئی ممالک نے بورڈ آف پیس کی حمایت کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد عالمی ادارے، جن میں اقوامِ متحدہ بھی شامل ہے، اس عمل میں تعاون کر سکتے ہیں۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی اور ہتھیار نہیں چھوڑتی تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں دیرپا امن کے لیے مسلح گروہوں کا اسلحہ ترک کرنا ناگزیر ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں بورڈ آف پیس کی رکنیت کے لیے غیر معمولی دلچسپی پائی جا رہی ہے اور کئی ممالک اس عالمی پلیٹ فارم کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں۔