گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/مشتاق علی لغاری) ڈی آئی جی سکھر و لاڑکانہ رینج ناصر آفتاب کی کمانڈ میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں نجی ٹی وی کے صحافی محمد بچل گھنیو کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان نے پولیس کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث ہتھیار ڈال کر گرفتاری پیش کر دی ہے۔ سکھر رینج پولیس، سندھ رینجرز اور وفاقی سول انٹیلیجنس ایجنسی کی مشترکہ کارروائیوں اور مسلسل تعاقب کے نتیجے میں ملزمان غلام حسین ولد جام گھنیو اور قدیر ولد خان محمد گھنیو نے خود کو گھوٹکی پولیس کے حوالے کر دیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے ڈی ایس پی آفس اوباڑو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل مسلح افراد کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہونے والے صحافی محمد بچل گھنیو کے کیس میں اب تک کل 4 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس لرزہ خیز قتل کے مقدمے میں کل 7 ملزمان نامزد تھے، جن میں سے دو پہلے ہی زیر حراست ہیں اور اب ان دو مرکزی ملزمان کی گرفتاری سے کیس منطقی انجام کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ایس ایس پی نے عزم ظاہر کیا کہ باقی ماندہ تین ملزمان کو بھی بہت جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
محمد انور کھیتران کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور فرائض کی انجام دہی کے دوران انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، وہ قانون کی گرفت سے کسی صورت نہیں بچ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع بھر میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن تمام ڈاکوؤں کے خاتمے یا ان کے مکمل سرنڈر کرنے تک بلاامتیاز جاری رہے گا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔